تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 484 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 484

نے ہوائی جہازوں اور ریلوں سے مولویوں کی کھیپ کی کھیپ بھیجنی شروع کی مگر تحریک پاک اس قدرسخت جان تھی کہ ان مولویوں کی ایک نہ پہلی اور آخر کا رس جون کو تقسیم ہند کے فیصلہ کا اعلان ہو یہی گیا۔اب ہندوؤں کو مولویوں کی بالکل ضرورت نہ تھی کیونکہ ان کی ساری کوششیں بیکار ثابت ہو چکی تھیں لیکن تقسیم ہند کے اعلان کے چند دنوں بعد مولویوں کا نصیبہ پھر جاگا اور آسام کے ضلع سلوٹ اور تھانوں میں رائے شماری کا اعلان ہوا۔ہندوؤں نے پھر مولویوں کی خدمات حاصل کیں اور مولوی حسین احمد مدنی کی سرکردگی میں ہزاروں مولویوں کو سلہٹ بھیجا تا کہ وہ مسلم اکثریت کے شہر سلیٹ اور اس کے آس پاس کے علاقہ کو پاکستان سے کاٹ کر ہندوستان میں شامل کر سکیں۔ان مولویوں نے اپنی جانیں لڑا دیں مگر انہیں اس مرتبہ بھی منہ کی کھانی پڑی اور مولوی حسین احمد مدنی معہ حواریوں کے اپنا سا منہ لے کر مشرقی بنگال سے تشریف لے گئے سیلوٹ میں ان حضرات کی عبرت ناک شکست سے ایک بات تو ہر حال ثابت ہو گئی کہ مشرقی بنگال سے مولویوں کا اثر ختم ہو چکا ہے سلہٹ ریفرنڈم میں مولویوں کی شکست اصل میں ان کے اقتدار کا آخری دن تھا۔جب مولویوں کی مخالفتوں ے علی الرغم پاکستان بن ہی گیا تو وہ مولوی جنہوں نے ہر ہر قدم پر پاکستان کے قیام کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا یا تھا او ینہوں نے قیام پاکستان کے راستے میں ہر قسم کی روکاوٹیں کھڑی کی تھیں وہ پاکستان کے زبر دست دوست بن کر سامنے آئے۔انہوں نے اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرنے کے لئے یہ سوچا کہ اگر تمام مولوی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں تو اس طرح ایک متحدہ محاذ بن سکتا ہے " اے مشرقی پاکستان کے مظلمون مسلمانوں نے جو اوار کے ہم مشرب کانگریسی علماء کے فتاوی تکفیر کی شمشیر بے نیام سے پہلے ہی زختم رسیدہ لکھنے اسلام کے نام پر سول نافرمانی کی دھمکی دینے والے احراری علماء کی شدید مذمت کی ہم مسلم پریس نے ان کے خلاف پر زور نوٹ لکھے۔نے رسالہ طلوع اسلام) کراچی ۲۶ مارچ ۱۹۵۵ صلا صلاه سے یادر ہے احراری علماء ان دنوں صاف لفظوں میں کہہ رہے تھے کہ ہمیں صرف چودھری سر ظفر اللہ کو اسکی گریسی سے علیحدہ کر نا نہیں ہے خواجہ ناظم الدین کوبھی یہی عزت دیتا ہے یا زمیندار سر فروری ۱۹۵۳ء مل کالم و بنیان را سیر تا جدین صاحب انصاری صدا مجلس احرار مرکز بید)