تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 476 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 476

تصور کرتا ہوں اور ذمہ داری بھی جیسے یکی معمولی نہیں سمجھتا اور دوسری طرف یہ بالکل واضح ہے کہ وزیر اعظم اپنے کسی ساتھی سے استعفاء طلب کر سکتے ہیں۔جب یہ تحریک شروع ہوئی تو میں نے نہایت واضح لفظوں میں اُس وقت وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو یہ بتایا تھا کہ اگر وہ بار سمجھیں تو یکی علیحدہ ہونے کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔اے حکومت پاکستان کی طرف سے فروری ۱۹۵۳ء کے آخر میں حکومت پاکستان کا اعلامیہ سی ای اعلامیہ جاری کیا گیا۔حسب ملک کے بعض حصوں میں جماعت احمدیہ کے متعلق جو فرقہ واری تحریک جاری ہے اس کے ارتقاء کی نمایاں خصوصیات سے عوام بے خبر نہیں ہیں۔اس تحریک کے علمبرداروں نے اب حکومت کو تحکمانہ چیلنج دیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو ڈائریکٹ ایکشن کریں گے۔اس تحریک کا آغا ز احرار نے کیا تھا اور اگر چہ بعد میں اس کی تائید لبعض دوسرے عناصر نے بھی کی لیکن اسے چلانے والے اب بھی احرار ہیں۔ہر شخص جانتا ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے اسرار مسلمانوں کی جد و جہد آزادی کے شدید ترین اور پیہم مخالف تھے اور انہوں نے ان میں سعتوں سے تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا جو حصول پاکستان کے لئے کوشاں تھیں بلکہ بہت سے احرار لیڈر کانگریس میں شامل ہو گو با ایسی جماعتوں سے مل کر کام کرتے رہے جو قائد اعظم کی تحریک آزادی کی دشمن تھیں۔احرار نے اپنی تخریب پسندانہ سرگرمیوں کو قیام پاکستان کے بعد ترک نہیں کیا بلکہ اس بات کا حتمی ثبوت موجود ہے کہ احرار نے اب تک پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کیا اور وہ ملک کے دشمنوں سے مل کر نہ صرف مسلمانوں میں افتراق و نفاق پھیلا رہے ہیں بلکہ پاکستان کے استحکام پر عوام کے اعتماد کو بھی متزلزل کرنے کے دریے ہیں۔احرار کی موجودہ انکی ٹیشن کا مقصد بھی ایک مذہبی تحریک کے پردے میں ملت اسلامیہ کی وحدت و سالمیت کو پارہ پارہ کرنے اور پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچانے کے سینہ کچھ نہیں ہے۔اب تنگ، یہ اینجی کمیشن عام جلدوں میں اشتعال انگیز تقریروں اور بعض اخبارات میں تحریروں کے ذریعے سے جاری رہی جس کے نتیجہ میں لبعض مقامات پر امن کنی اور لاقانونی کے واقعات بھی رونما ہوئے لیکن اب معلوم ہوتا ہے کہ اس تحریک کے علمبرداروں نے پورے ملک میں فتنہ و فساد پھیلانے کا تہیہ کر لیا لے اخبار ملت (لاہور) ۲۲ جنوری ۱۹۵۴ء مشہ: