تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 475 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 475

اور پاکستان کے عوام کو احرار کا ماضی یاد دلاوے تو احرار ہمیشہ کے لئے ذلیل ہو جائیں گے۔احرار نے یقیناً پاکستان کے خلاف کام کیا تھا۔سوال کیا گیا آپ نے کسی احمدی لیڈر یا احمدی مقرر کو بھی انتباہ کیا تھا؟ جواب نہیں مجھے فرقہ احمدیہ سے کسی بد امنی کا خدشہ نہ تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک چھوٹا سا فرقہ ہے۔ریاست کی بنیاد اگر قرآن اور سنت پر ہوئی تو احمدیوں اور غیر مسلموں کو اپنے عقائد کی علانیہ طور پر تبلیغ کرنے کی اجازت ہو گی۔بنیادی حقوق ہیں اس کے متعلق ایک دفعہ پہلے ہی موجود ہے پاکستان میں غیر مسلموں کی حیثیت ذمیوں کی نہیں بلکہ معہدوں کی ہوگی کیونکہ وہ لوگ مفتوح نہیں ہیں۔ان تینوں مطالبات میں سے کوئی مطالبہ قرار داد مقاصد یا بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی سفارشات سے پیدا نہیں ہوتا۔جس مکتب خیال کی لیکن پیروی کرتا ہوں وہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ کوئی جندی یا سیما آئے گا۔سوال۔کوئی شخص اگر غلطی سے لیکن دیانتداری کے ساتھ کسی کا یہ دعوئی تسلیم کرے کہ وہ مہدی یا مسیحا ہے تو آپ کے مکتب خیال کے مطابق وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا ؟ جواب۔یہیں اس کے متعلق یقین کے ساتھ نہیں کر سکتا ہے جناب مشتاق احمد صاحب گورمانی وزیر داخلہ :- حکومت پاکستان سمجھتی ہے ہر چند کسی فرقے یا طبقے کے جائز حقوق پر کوئی ناروا پابندی عائد نہیں ہونی چاہیئے اور مختلف نظریات کے حامیوں میں کوئی امتیاز بھی روا نہیں رکھنا چاہیے تاہم مذہبی فرقہ بندی سے پیدا ہونے والے تنازعات کو اس حد تک بڑھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے جہاں امن و امان یہی خطرے میں پڑ جائے۔اس کے علاوہ جنگجویانہ اور جارحانہ نوعیت کی مذہبی فرق ندی کے خلاف غیر جانبداری اور سختی سے قدم اُٹھایا جائے۔سے جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب وزیر خاریجہ :- جہاں تک اپنے عہدہ کے متعلق میرے رویہ کا تعلق ہے میں اسے ایک بہت بڑا اعزاز سمجھتا ہوں جو خدا وند تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے۔یہ چیز قابلیت اور صلاحیت کی بناء پر نہ میں میں ایسے ایک امانت به اخبار انت لاہور ۲۹۰۲۸ نومبر ۶۱۹۵۳ : که اخبار ملت لاہور ۱۶ دسمبر ۱۹۵۳ء مگ