تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 477 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 477

ہے تاکہ حکومت اور عوام کو اپنے محکمانہ مطالبات کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا جاسکے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات منظور نہ کئے گئے تو وہ برا یا راست قدم اُٹھائیں گے۔دنیا کی کوئی حکومت اپنے آپ کو ڈائریکٹ ایکشن کی دھمکی سے مرعوب ہونے کی اجازت نہیں دے سکتی لہذا حکومت نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ امن و امان کو بر قرار رکھنے کے لئے اپنے تمام ائیر استعمال کرنے لگی۔حکومت تمام متعلقہ عناصر کو تنبیہ کر دینا چاہتی ہے کہ اگر اس تحریک کے علمبردار بن کے الٹی میٹیم کے نتیجہ میں امن عامہ میں کوئی مخلل واقع ہوا تو قانون یقیناً حرکت میں آئے گا اور جو لوگ والدی لیکنی کے مرتکب ہوں گے ان کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔بایں ہمہ حکومت کو امید ہے کہ اس تحریک کے علمبردار ہوش مندی سے کام لیں گے اور وہ کوئی ایسی حرکت نہیں کریں گے جس سے امن عامہ میں فل پڑتا ہو یا ان تخریب پسند عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہو جو عوام کے اعتماد کو ایک ایسے وقت میں متزلزل کرنے کے درپے ہیں جب پاکستان کو بعض اہم ترین اندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا ہے۔حکومت عوام کے ہر طبقہ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ کسی غیر آئینی حرکت کو برداشت نہ کر سے اور اس بات کا خیال رکھے کہ کوئی ایسی سرگرمی نہ دکھائی جائے جس سے پاکستان کی وحدت اور سالمیت کے خطرے میں پڑنے کا اندیشہ ہو؟ اے ا حکومت پاکستان کے اس اعلامیہ کا تجزیہ اگر بھارتی اسلامیہ کی ضرورت و اہمیت لیڈروں کے بیانات کی روشنی میں کیا جائے تو اس کی بھارتی لیڈ روس کے بیانات کی روشنی میں ضرورت و اہمیت بالکل عیاں ہو جاتی ہے۔اس سلسلہ میں چند مشہور ہندوستانی نشاء کے بعض ضروری اقتباسات بطور نمونہ درج ذیل گئے جاتے ہیں۔۱۹۲۵ء میں پنڈت نہرو نے ایک سینٹر برطانوی افسر سے کہا تھا کہ اُن کا اصل منصوبہ یہ ہے که و اجتماع کو اُن کا پاکستان دے دیں گے اور پھر بندر بھی پاکستان کے لئے معاشی طور پر اور دیگر لحاظ که روزنامه "زمیندار" لاہور یکم مارچ ۱۹۵۳ء ص : سے یہ سب اقتباسات جناب ممتاز احمد صاب کی کتاب مسئلہ کشمیر سے لئے گئے ہیں۔یہ کتاب المحراب سمن آبا د لا ہور نے شائع کی ہے اور دیا چہ بانی جامات اسلامی بر جناب سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی نے لکھا ہے : ܀