تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 474
۴۶۴ وزیر اعلیٰ کو چاہئیے تھا کہ وہ چند سرغنوں کو منتخب کر کے اُن کے خلاف کارروائی کرے۔احمدیوں بالخصوص چوہدری ظفر اللہ بخاں کے خلاف تحریک کو چلایا گیا۔لاہور میں اور پنجاب کے بعض اضلاع میں چوہدری ظفر اللہ خان کو گدھے یا گنے کی صورت میں دکھایا گیا۔احمدیوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں مردے وفن کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ان کا سوشل بائیکاٹ کر دیا گیا اور ان کی دُکانوں پر پہرے بٹھا دئیے گئے۔اگر علماء نے احمدیوں کو محض کا فریا مرتد کہا ہوتا اور یکی پنجاب کا وزیر اعلیٰ ہوتا تو یکی ان کو ایس بناء پر سزا نہ دیتا لیکن اگر علماء ایسی باتیں کہتے جن سے احمدیوں کے خلاف نفرت پیدا ہوتی تو میں ضرور کا درروائی کرتا۔اگر قابل اعتراض ذرائع اختیار نہ کئے جائیں تو ایک جمہوری ملک میں حکومت کے سامنے ہر مطالبہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔لے لے جناب سردار عبد الرب صاحب نشتر مرکزی وزیر صنعت و حرفت : میری رائے یہ تھی کہ احرار کی سرگرمیوں کا یہ سبب ہو سکتا ہے کہ تقسیم کے بعد اپنی پوزیشن سے محروم ہو جانے کے بعد وہ عوام میں اپنی جگہ دوبارہ پیدا کرنا چاہتے تھے۔پاکستان کے قیام کے بعد احرار نے پاکستان کی وفاداری کا اعلان کر دیا تھا لیکن احرار کی گذشتہ تاریخ کے پیش نظر مسلم لیگ بدستور اُن کے بارے میں محتاط رہی۔میری یہ رائے تھی کہ مسلم لیگ اگر احرار کے خلاف پراپیگنڈا کرے له روزنامه ملت ۲ تا ۶ دسمبر ۶۱۹۵۳ : سے تحقیقاتی عدالت میں جماعت اسلامی کے وکیل چوہدری نذیر احمدرضا نے بھی کہا کہ چو ہدری ظفر اللہ خان کو نہایت ناپاک اور گندے الفاظ میں علانیہ طور پر گالی دی جارہی تھی جس کی اجازت کسی متمدن ملک کی متمدن حکومت نہیں دے سکتی۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے ایک سینٹر رکن کو گالیاں دینے کا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری رہا لیکن اس انتہائی شرمناک اور حوصلہ فرسا اقدام پر ان کے رفقائے کا بلینہ یا ملک کے رہنماؤں نے اس کو ختم کرنے کے لئے ذرہ بھر بھی آواز نہیں اُٹھائی۔چوہدری نذیر احمد نے کہا گند سے دشنام آمیز اور زہر یلے نعروں کے باوجود جب ملک کے صحیح الخیال لوگوں نے دیکھا کہ یہ مظاہرے سرکاری افسروں کی جانب سے کسی روک ٹوک یا پابندی کے بغیر جاری ہیں تو ان میں شکست خوردگی کی ذہنیت پیدا ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ اس طرح کی حرکتوں کی مذمت میں نام نہاد مجلس عمل کے کسی رہنما نے بھی کوئی بیان بھاری نہیں کیا۔دیکت ، فروری ۶۱۹۵۴ مت)