تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 473
عدالت نے پوچھا کیا یہ درست نہیں ہے کہ یہ تینوں مطالبات اس فیصلہ کا نتیجہ تھے کہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانا چاہیئے۔خواجہ ناظم الدین صاحب نے اصرار کیا کہ کر کے فتوے کا مطلب لا ز ما یہ نہیں کہ ایک فرقہ کو غیر مسلم اقلیت سے بدل دیا جائے خلفاء راشدین کے عین بعد سے موجودہ وقت تک متعدد افراد اور جماعتوں کے خلاف کفر کے فتوے دیئے جاتے رہے ہیں لیکن تاریخ اس بات کی کوئی شہادت نہیں دیتی کہ ایسی جماعت کو کبھی سلمان کی حیثیت سے شہری حقوق سے بھی محروم کیا گیا ہو۔ایک مسلمان کے شہری حقوق فتوئی نہیں چھین سکتا۔مجھے یقین ہے کہ اگر پاکستان کو غیر مذہبی مملکت قرار دیا جاتا تب بھی یہ تینوں ممالبات اپنی جگہ قائم رہتے اور انہیں منوانے کے لئے اسی طرح زور دیا جاتا جس طرح اب دیا گیا ہے۔سوال کیا گیا آپ نے علماء کو کیوں نہیں بتایا کہ آپ احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کے حق میں نہیں تھے ؟ جواب۔اس کا نتیجہ علماء سے گھلی ٹکر لینے کے مترادف ہوتا جس سے میں اجتناب کرنا چاہتا تھا۔یکں نے محسوس کیا اگر یکی علماء کو قائل کر سکا تو تحریک خود بخود ختم ہو جائے گی کیونکہ صرف علماء ہی تحریک کو ہوا دے رہے تھے۔جہاں تک میری اطلاع کا تعلق ہے شیعہ ایک فرقہ کی حیثیت سے اس الٹی میٹم کے خلاف تھے۔خود ساختہ نمائندہ سید مظفر علی شمسی بھی حیثیت سے موجود تھے۔اہلحدیث اور دیوبندی گروہوں کی نمائندگی تو صحیح تھی لیکن یہ دونوں گروپ ڈائر یکٹ ایکشن کے خلاف تھے۔پنجاب کے لے ممتاز محمد خان دولتانہ سے تحقیقاتی عدالت میں دریافت کیا گیا کہ جو علماء اس وقت ایجی ٹیشن چلا رہے تھے۔ان کے متعلق خواجہ ناظم الدین کی روش کیا تھی ؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا ان کی طرف خواجہ ناظم الدین صاحب کا رویہ ہمدردانہ تھا۔اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ ملک کے سامنے آئین سازی کا مسئلہ درپیش تھا اور وہ برسر اقتدار پارٹی کے دیدہ تھے اور آئین سازی کے دوران میں انہوں نے علماء کے نقطہ نگاہ کا بہت لحاظ کیا تھا۔اور جہاں تک نہیں سے اندازہ لگا یا خواجہ صاحب نے مذہبی رہنماؤں کے نقطہ نظر کو قبول بھی کر لیا تھا میرا خیال ہے کہ ان کی پالیسی یہ تھی کہ آئین کے صرف مذہبی مسائل پر پوری توجہ دی جائے تا کہ اس طرح ملک میں عام مقبولیت حاصل کر لی جائے اور پھر اسکے ذریعہ سے غیر مذہبی نوعیت کے مسائل مساویانہ نمائندگی اور قومی زبان کے مسائل کو حل کرتے ہیں مدد لی جائے (اخبار ملت ۲۳ جنوری ۱۹۵۴ م )