تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 446 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 446

۴۳۶ کے مطابق اکثریت باطل پر ہے اور ۷۲ فرقوں میں سے صرف وہ فرقہ ناجی ہے جو اقلیت میں ہوگا چنا ہے جماعت اسلامی کے ترجمان رسالہ ترجمان القرآن، ستمبر، اکتوبیہ ۱۹۲۵ء نے لکھا:۔گرام اسلام میں نہ اکثریت کا کسی بات پر متفق ہو جانا اس کے حق پر ہونے کی دلیل ہے، نہ اکثریت کا قام سواد اعظم ہے، نہ پر بھیڑ جماعت کے حکم میں داخل ہے اور نہ کسی مقام کے مولویوں کی کسی جماعت کا کسی رائے کو اختیار کر لینا اجماع ہے۔ان ساری غلط فہمیوں سے تعرض کرنے کا یہ موقع نہیں ہے البته بذکورہ بالا حدیث کا مطلب ہم بیان کئے دیتے ہیں۔لے بالکل اسی نظریہ پر احرار نے مخالفت پاکستان کی بنیاد رکھی۔چنانچہ ایک بار سید عطاء اللہ شاہ صاحب نے کہا ہم سے کہا جاتا ہے کہ جدھر اکثریت ہو ادھر تم بھی چلو اور اکثریت کا ساتھ دوو) ہم اکثریت نہیں چاہتے ہمیشہ اقلیت حق پر ہوتی ہے۔ہم نام نہا د اکثریت کی تابعداری نہیں کریں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تکثریت باطل پر ہے ؟ (اخبار زمزم ۳۰ اپریل ۱۹۳۹ ء بحوالہ سوانح حیات سید عطاء اللہ شاہ بخاری ها مولفہ خان حبیب الرحمن صاحب کا بل " طبع اولی جون ۱۶۱۹۴۰ آپ نے ایک اور موقعہ پر تقریر کے دوران کہا " اگر اکثریت کا لحاظ ہے تو حضرت حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ پر درود کیوں سمجھتے ہو یزید پر درود پڑھوی فرمودات امیر شریعت ما مرتب جنابت کیم مختار احمد امینی صاحب مکتبہ تعمیر حیات چوک رنگ محمل کا ہور) شاہ صاحب نے قیام پاکستان کے بعد یہ بھی کہا : " کمیونسٹوں سے ہماری جنگ کیس ، اسلام در شورائیت کا جھگڑا کیا ہیں تو پوچھتا ہوں کہ اسلام ہے کہاں جس سے کمیونزم کی جنگ ہوگی۔(خطبات امیر شریعت" ه مرتبه جانباز مرزا طبع اقوال پنجاب پریس لاہور ) نیز کہا :- کیہ سے کراچی تک ہر جگہ قانون گھر ہی مسلط ہے ؟۔" زکات کعبه تا کا دیا کراچی سراسر کفر و كفر دون كفره ory رحیات امیر شریعت ۲۵ ماه مرتبه جانباز مرزا - ناشر مکتبہ تبصرہ پر گلشن کالونی شاد باری