تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 447 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 447

سم لهم مذکورہ بالا سدیری ترندی میں ان الفاظ کے ساتھ وارد ہے : " ان الله لا يجمع امتی أو قال امة محمد على ضلالة ويد الله على الجماعة ومن شذ شذ في النار اللہ تعالیٰ میری امت کو بالیوں فرمایا کہ محمد کی امت کو ملالت پر جمع نہیں کرے گا اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور جو جماعت سے الگ ہوا وہ جہنم میں پڑا) اس کا مطلب یہ ہے کہ اس امت پیر کوئی ایسا دکور نہیں آئے گا کہ یہ پوری امت گمراہی میں پڑھائے بلکہ اس میں ایک گروہ خواہ وہ کھتا ہی چھوٹا ہو ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور وہی جماعت ہے اور اللہ کا ہاتھ اس جماعت پر ہے۔اور جو اس جماعت سے الگ ہوا وہ ہم میں گرا۔اس مطلب کی تائید اس حدیث نہوئی سے ہوتی ہے جو عبد اللہ بن عمرض سے بایں الفاظ مروی ہے : " ان بنی اسرائیل تفرّقت على اثنتين وسبعين ملة وتفترق امتى على ثلاث وسبعين ملة كلهم في النار الاملة واحدة قالوا من هي يا رسول الله ؟ قال ما انا عليه واصحابي؟ بنی اسرائیل ۷۲ فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ بھائے گی جو سب کے سب جہنم میں پڑھائیں گئے بجز ایک کے لوگوں نے پوچھا یہ کون لوگ ہوں گے یارسول الله ؟ آپ نے فرمایا وہ جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقہ پر ہوں گے۔احمر اور ابو داؤد کے یہاں پہلی روایت کسی قدر مختلف الفاظ میں ہے اور ان میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہی فرقہ جو آپ کے اور آپ کے صحابہ کے طریق پر ہو گا۔جماعت ہے اور اس کے اوپر اللہ کی رحمت کا ہاتھ ہے۔عن معاوية ثنتان وسبعون في النار و واحدة في الجنة وهى الجماعة (معاویہؓ سے روایت ہے کہ بہتر فرقے جہنم میں ہوں گے ایک جنت میں ہوگا اور وہی جماعت ہے) اس سے معلوم ہوا کہ ایک زمانہ اس اُمت پر ایسا آئے گا کہ اس کے بڑے حصہ میں منالت کا اثر اسی طرح سرایت کر جائے گا جس طرح باؤلے گتے کے کاٹنے سے اس کا زہر آدمی کی رگ رگ میں سرایت کر جاتا ہے، صرف تھوڑے لوگ بیچ رہیں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے طریق پر ہوں گے اور وہی لوگ جماعت کے حکم میں ہوں گے یعنی اسی مضمون کی ایک حدیث اور بھی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:۔لا تزال طائفة من أمتى على العنق۔۔ا میری اُمت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر