تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 439
۴۲۹ جناب مولوی اختر علی خاں صاحب ابن مولوی ظفر علی خان نے نومبر ۷۲ فرقوں کا اجماع ۱۹۵۲ء میں کہا کہ - مجلس عمل نے گذشتہ تیرہ سو سال کی تاریخ میں دوسری مرتبہ اجماع امت کا موقعہ مہیا گیا ہے۔آج مرزائے قادیان کی مخالفت میں امت کے ۷۲ فرقے متحد و متفق ہیں۔جنتی اور وہابی ، دیوبندی، بریلوی شیعہ ،اشتی ، اہلحدیث سب کے علماء ، تمام پیر اور تمام صوفی اس مطالبہ پر متفق و متحد ہیں کہ مرزائی کافر ہیں انہیں مسلمانوں سے ایک علیحدہ اقلیت قرار دوڑا ہے ادر جناب سید عطاء الله شاه حتما بخاری وزیراعظم پاکستان کے حمد ہونے کا پراپیکین اور انکے رفقار نے پراپیگنڈا کا کہا۔خواہ ناظم الدین مرزا محمود کے ہاتھ پر بیعت کر کے قادیانی ہو گئے ہیں اور ان کے قادیانیوں کے درمیان کوئی رشتے بھی ہو چکے ہیں ؟ ۲ مجاہد ملت جناب مولوی محمدعلی منیا جاند هری مرکزی وزراء پر انتشار پھیلانے کا الزام نے بھرے جلسوں میں یہ الزام لگایا کہ :- ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کی ذمہ داری اُن لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو وزارتوں کی گریوں پر فائز ہیں۔آج ملک میں جو پریشانی پھیلی ہوئی ہے وہ صرف ان کرسی نشینوں کی بدولت ہے جو اسلام کا نام لے کہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ دھو کر کرتے ہیں ا سنے جناب مولانا منی اما صاحب یکیش نے ناصحانہ انداز میں ریاست در ریاست کیا :- یک ارباب اقتدار کو ایسی بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو پاکستان کے اندر پاکستان کو تباہ کرنے کے لئے بنائی گئی ہے وہاں زمین دوز سر کیں ہیں وہاں ہم تیار ہوتے ہیں، وہاں مضبوط قلعہ بنایا جارہا ہے۔۔۔وہ ریاست جہاں ایسی تیاریاں ہو رہی ہیں وہ مرزائیوں کی ریاست ہے جس کا لے زمیندار در نومبر ۱۹۵۲ء ص کالم : کے ہفت روزه حکومت ۱۴ فروری ۱۹۵۳ء و آزاد ۲۰ جنوری ۱۹۵۳ء مٹہ کالم ہے سے آزاد ، ستمبر ۱۹۵۲ء ص کالم علا و