تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 437
۴۴۲۷ مولانا صاحب نے ان دنوں اعلان کیا کہ :۔ہم دیانتداری کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ اس محاذ پر ہماری لڑائی کفر اور اسلام کی لڑائی ہے الے۔جناب سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری امیر شریعت احرا محافظین جسم نبوت کا بلند مقام نے اور جولائی ۱۹۵۲ء کے ایک جلسہ عام میں تقریر فرمائی ہے۔اور عام کہ یں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم المرسلین پر ایمان رکھنے والے مسلمان کی گلی کے گتے کا بھی منہ چومنے کو تیار ہوں " کے اسی طرح مرکزی حکومت کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا :- تم ناموس مصطفے کا تحفظ کر وہیں تمہارے گتے پالنے کو تیار ہوں میں تمہارے سٹور چراؤں گا اسے جناب مولانا احتشام الحق صاحب تھانوی کنوینر پاکستان کی سرمندی کی لازمی شرط آل پاکستان سلم پارٹیز کنوینشن نے کراچی میں تقریر کے دوران کہا :۔" جب تک مرزائیوں کو اقلیت قرار نہیں دیا جاتا پاکستان سربلند نہیں ہو سکتا ہے۔جناب مولانا عبد الحامد صاحب بدایونی کی تقریر ۱۵ جنوری ۱۹۵۳ء کشمیر دلانے کی ضمانت المقام لاہور : از ظفراللہ کو آج وزارت خارجہ سے الگ کر دیا جائے تو علمائے کرام کشمیر حاصل کرنے کی گارنٹی دیتے ہیں یا شے ه جناب مولانا اختر علی خان صاحب مدیر زمیندائه تکمیل پاکستان کی واحد صورت خیر پور کا نفری استنده و اکتوبر ۱۹۵۸) کو نے منعقدہ 9 خطاب کرتے ہوئے کہا :- جب تک ہم مرزائیت صفحہ ہستی سے نہیں مٹا دیں گے اس وقت تک پاکستان صحیح معنوں ہیں که زمیندار ۱۷ فروری ۶۱۹۵۳ حت کالم ملبے کے انجام دکراچی ۷ ۲۴ جولائی ۱۹۵۲ء صنا ه آزاد ۱۸- فروری ۱۹۵۳ء متہ کالم کے زمیندار یکم اگست ۱۹۵۲ء صبا کاظم عث که شه زمیندار ۱۷ فروری ۱۹۵۳ء مل ہے