تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 436
۴۲۶ ظالموں کے ظلموں سے نیچے جائیں گے دنیوی طور پر بھی اور دینی طور پر بھی۔پس جماعت کے لئے دعا در حقیقت اپنے لئے دعا ہے۔اگر کوئی شخص جماعت کی ترقی کے لئے دعا کرتا ہے تو درحقیقت وہ اپنے لئے دعا کرتا ہے۔وہ کسی پر احسان نہیں کرتا بلکہ اپنے فائدہ کا کام کرتا ہے یا اے حضرت مصلح موعودہ کی مولتی تحریک یہ تھی کہ سچائی کو اختیار سچائی اختیار کرنے کی تحریک کرو کہ اس کے نتیجہ میں نہیں دوسری بہت سی نیکیوں کی بھی توفیق مل جائے گی چنانچہ حضور نے 4 فروری ۱۹۵۳ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔تم فیصلہ کر لو کہ ہم نے پہنچ بولنا ہے چاہے اس کے بدلہ میں تم ذلیل ہوں شرمندہ ہوں یا ہمیں کوئی اور نقصان اُٹھا نا پڑے پھر دیکھو تمہارے اخلاق کی کتنی جلدی درستی ہو جاتی ہے پیس یں ان مختصر الفاظ میں جماعت کو اس امر کی طرف تو بقیہ دلاتا ہوں کہ وہ پنچائی کو اختیار کریں ربات مختصر ہے لیکن ہے بہت بڑی۔کہنے کو تو یہ ایک منٹ میں کسی جا سکتی ہے لیکن نتیجہ اس کا صدیوں کی بھلائی اور قومی ترقی ہے ا سے احراری تحریک کے ہمنوا لیڈروں نے آل پاکستان ڈائریکٹ کراچی کو فیشن اور اٹیکیٹ کیس کا فیصلہ اسلامی کے سیاسی ڈھاکہ کے بعد پیسہ اجلاس کیا کہ اگر حکومت پاکستان نے ۲۲ فروری ۱۹۵۳ء تک ان کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو ختم نبوت کی باغی حکومت کے خلاف ڈئریکٹ ایکشن کریں گے لیے اس سلسلہ میں راست اقدام کے مقتد راہنماؤں کی بے شمار تقاریہ کے چند مختصر نمونے سپرد قرطاس کئے جاتے ہیں۔کفرہ ا جناب مولانا عبد الحامد صاحب بدایونی صدر جمعیتہ العلماء کراچی و کفر و اسلام کی جنگ سنده و رکن کونسل آن ایکیشن یہ نظریہ رکھتے تھے کہ میں آئین ساز اسمبلی کو دین کے متعلق قوانین منظور کرنے کا اختیار نہیں دے سکتا ہے روزنامه الفضل ۸ فروری ۱۹۵۳ء ص : الفضل ۱۴ تبلیغ ۱۳۳۲ پیش من نگے رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب اُردو ص۱۳۳، ص۱۳ کے روزنامه آفاق 1 اکتوبر ۱۹۵۳ء ص :