تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 433 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 433

۴۲۲۳ ہیں۔اسے گالیاں دی بھاتی ہیں۔صاف بات ہے کہ جو شخص ان حالات میں بند مت دین کرتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ اسے اس خدمت کا معاوضہ نہیں ملتا بلکہ اسے الٹا جھاڑیں پڑتی ہیں، اسے گالیاں دی جاتی ہیں اس (کا) ور یہ ایمان اس شخص سے بلند ہے جو خدمت دین کرتا ہے اور اسے اس کا معاوضہ ملتا ہے یا خدمت کرتا ہے اور اسے اس کا معاوضہ نہیں ملتا لیکن جھاڑیں بھی نہیں پڑتیں۔در حقیقت محبت کامل کا معیار ہی نہیں ہوتا ہے۔اگر یکی غلطی نہیں کرتا تو غالب ابراہیم او ہم نہ تھے جن سے دو نرخ اور جنت کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا مجھے جنت اور دوزخ سے کیا غرض ہے خدا تعالیٰ جہاں مجھے رکھنا پسند کرے گا لیکن رہوں گا۔اگر وہ مجھے جنت میں رکھنا پسند کرے گا تو میں جنت کو پسند کروں گا اور اگر وہ مجھے دونغ میں رکھنا پسند کرے گا تو میں دو رخ ہی کو پسند کروں گا۔پس جو شخص قطع نظر کسی معاوضہ کے دین کی خدمت کرتا ہے بلکہ اسے معلوم ہے کہ اسے بجائے کسی معاوضہ کے الٹا جھاڑیں پڑیں گی اور اسے گالیاں کھانی پڑیں گی لیکن وہ پھر بھی خدمت سے باز نہیں آتا وہ یقینا خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے پیار کو جذب کرنے والا ہے۔اور اس میں کیا شعبہ ہے کہ جب قیامت کے دن سب لوگ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے تو انبیاء کے بعد سب سے مقدم وہ شخص ہو گا جس کو دین کی خدمت کا نہ صرف یہ کہ معاوضہ نہ ملا بلکہ اسے جھاڑیں پڑیں، اسے گالیاں کھانی پڑیں لیکن وہ خدمت سے پھر بھی باز نہ آیا۔اگر روزہ رکھنے والوں کے متعلق رسول کو یم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ قیامت کے دن بعد اتعالیٰ کہے گا کہ ان کا معاوضہ میں ہوں تو یقیناً وہ لوگ جنہوں نے دین کی خدمت کی اور اس حالت میں خدمت کی کہ نہ صرف یہ کہ انہیں کوئی معاوضہ نہ ملا بلکہ انہیں جھاڑیں پڑیں، انہیں برا بھلا کہا گیا ، انہیں گالیاں دی گئیں، انہیں اجالقتل قرار دیا گیا، انہیں اخراج عن الوطن کی دھمکیاں دی گئیں انہیں خدا تعالیٰ قیامت کے دن کہے گا کہ اگر انسانوں کے پاس تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں تو تمہاری جگہ میری گود میں ہے۔اور اگر انسانوں کے ه حضرت خواجہ فرید الدین عطار نے تذکرۃ الاولیاء" (باب ۴۳) میں یہ بات حضرت جنید بغدادی کی طرف منسوب کی ہے ؟