تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 432 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 432

۴۳۲ اس کی یاد دہانی کرائی او نصیحت فرمائی کہ :- جوطاقتور ہیں، تندرست نہیں ان کے لئے سفر میں رمضان کے روزے جائز نہیں نفلی روزے جائز ہیں کیونکہ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ جب مسافر کے لئے فرض روزے منع ہو گئے تو بھی بعض صحابیہ سفر اور لڑائیوں میں نفلی روزے رکھ لیتے تھے۔ان ایام کو خصوصیت کے ساتھ دعاؤں میں گذار اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو یا لے احمدیوں نے جو ہمیشہ فتنوں اور آزمائشوں کے ایام میں اس روحانی مجاہدہ کے خوش کن اثرات و نتائج کو آزماتے آرہے تھے اس تحریک پر بھی والہانہ لبیک کہا۔پریسی رز دوسری تحریک اشاعت دین سے تعلق تھی جس کی طرف حضر مصلح موجود اشاعت دین کی تحریک نے ۲۳ صالح ۱۳۳۲ اہش کے خطبہ جمعہ میں بڑے موثر پیرا یہ میں تو یہ دلائی اور صیحت فرمائی کہ ہمارے ایمان و اخلاص کا تقاضا ہے کہ تحریک جدید ہمیشہ جاری رہے۔اس سلسلہ میں تبلیغی نقطہ نگاہ سے جماعت احمدیہ کی امتیازی شان پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا۔یاد رکھو کہ اس وقت اشاعت دین کا کام تم ہی کہ رہے ہو تمہارے سوا اور کوئی نہیں کر رہا۔دنیا میں صرف تم ہی ایک جماعت ہو جو خدا تعالیٰ کے دین کے جھنڈے کو اُٹھائے ہوئے ہو۔تمہیں شکوہ ہوگا کہ تمہیں وہ لوگ ہو جنہیں مخارج از اسلام کہا جاتا ہے تمہیں وہ لوگ ہو جن کے خلاف مولوی اکٹھے ہو کر کفر کے فتوے لگاتے ہیں لیکن یہ شکوہ کی بات نہیں اس سے تو تمہارے کام کی عظمت اور نشان اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ایک شخص دین کی اس لئے خدمت کرتا ہے کہ اسے اس کا بدلہ ملے گا۔ایک شخص دین کی خدمت کرتا ہے اور اسے اس کا بدلہ نہیں ملتا اور ایک شخص دین کی خدمت کرتا ہے اور اسے نہ صرف اس کا بدلہ نہیں ملتا بلکہ الٹا اسے جھاڑیں پڑتی ہیں۔اسے برا بھلا کہا جاتا ہے، گالیاں دی جاتی ہیں۔تم دیکھ لو ان تینوں میں سے کسی کا ذریعہ بڑا ہوتا ہے ؟ آیا اُس شخص کا درجہ بڑا ہوتا ہے جو دین کی خدمت کرتا ہے اور اسے اس کا معاوضہ ملتا ہے یا اُس شخص کا درجہ بڑا ہوتا ہے جو دین کی خدمت کرتا ہے اور اسے اس کا معاوضہ نہیں ملتا یا اس شخص کا درجہ بڑا ہوتا ہے جو دین کی خدمت کرتا ہے اور نہ صرف یہ کہ اسے اس کا بدلا ہی نہیں ملتا بلکہ الٹا اُسے جھاڑیں پڑتی ه خطبه جمعه فرموده ۲ صلح ۱۳۳۲ ش ( مطبوعہ الفضل نے صلح ۱۳۳۲ مش حت)