تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 405
امیدوں سے کہیں بڑھ کر لکھی ہے اور فی الجملہ علی الجملہ بہنوں کے لئے ہدایت کا موجب ہوگی، انشاء الله له آپ کا جوش تبلیغ انتہاء تک پہنچا ہوا تھا جیسا کہ حضرت مصلح موعود نے خطبہ جمعہ میں فرمایا :- ماسٹر عبد الرحمن صاحب کار آمد کارکن ہیں تبلیغ کا انہیں الیسا جوش ہے کہ بعض لوگوں کی نظروں میں جنون کی حد تک پہنچا ہوا ہے۔ایسے آدمی شست لوگوں کو ہوشیار کرنے کے لئے بہت مفید کام کرتے نہیں۔اسے تان ۱۹۱۵ ء میں آپ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی اجازت سے جزیرہ جزائر میں تبلیغ اسلام پورٹ بلیئر میں ایک سکول کی ہیڈ ماسٹری کے لئے تشریف لے گئے جہاں آپ اپنے تعلیمی فرائض کو نہایت محنت و خلوص سے سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ والہانہ طریق سے تبلیغ اسلام و احمدیت بھی کرتے رہے اور قریباً تین نفوس پر مشتمل ایک جماعت پیدا کر لی۔اسی دوران میں آپ حضرت خلیفہ ثانی نے کے حکم سے بیٹی اور بدر اس سے ہوتے ہوئے سیلون بھی تشریف لے گئے اور کولہو، کانڈی جیسے اہم شہروں میں لیکچر دئیے اور لارڈ یشیوں اور بڑھوں کو چیلنج دیا اور مباحثہ کیا جس کا سیلونی پریس میں خوب چر بچا ہوا۔۱۹۳۷ء میں پمفلٹ " حضرت بابا نانک رحمتہ اللہ علیہ کا دین دھرم کی پاداش میں فید و بند آپ پر مقدمہ پہلا یا گیا، عدالت نے چھ ماہ قید کی سزا دی ہتھکڑی پہنائی گئی تو آنے اس کو چوم لیا جیسا کہ حضرت مہدی موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔گر قضا را عاشقی گردو اسیر بوسد آن زنجیر را کز آشنا سے یعنی اگر قضائے الہی سے عاشق قید ہو جاتا ہے تو وہ زنجیر کو چومتا ہے اس لئے کہ وہ دوست کی طرف سے ہے۔حضرت ماسٹر صاحبان نے جیل جاتے وقت نوجوانان احمدیت کو یہ پیغام دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے حضرت بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ کے مسلمان ہونے کی جس صداقت کا اظہار ۱۴۸ یکن مسلمان ہو گیا ، حصہ سوم صدا له الفضل ۲۳ جولائی ۶۱۹۲۴ مت ہے سے کتاب البریہ (سرورتی) :