تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 406
فرمایا ہے اسے وہ دنیا کے سامنے پیش کرتے رہیں۔مجھے اس صداقت کے اظہار میں جو سرا بھی دی جائے اسے بخوشی قبول کرنے کو تیار ہوں۔چنانچہ آپ نے ایام اسیری کمال صبر و استقامت سے گزارے۔قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ مہدی موعود اور آپ کے صحابہ کی امتیازی خصوصیہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نہ کی ایک بھاری خصوصیت حسب ذیل آیت میں بتائی گئی ہے :- قُلْ هَذِهِ سَبِيلِ ادْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي (یوست : ۱۰۸) (ترجمہ) تو کہ یہ میرا طریق ہے کہ میں اور میرے پیر علی وجہ البصیرت اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔منهاج نبوت کے اس قرآنی اصول کے مطابق حضرت مہدی موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا :- ہم نے اس خدا کی آواز شنی اور اُس کے پر زور بازو کے نشان دیکھے جس نے قرآن کو بھیجا۔سو ہم یقین لائے کہ وہی سچا خدا اور تمام جہانوں کا مالک ہے ہمارا دل اُس یقین سے ایسا پر ہے جیسا کہ سمندر کی زمین پانی سے سو ہم بیرت کی راہ سے اس دین اور اس روشنی کی طرف ہر ایک کو بلاتے ہیں اس سلسلہ میں اسد اللہ الغالب حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انصار صدی کی نسبت بالخصوص یہ پیشن گوئی فرمائی : Я اللهِ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا كُنُورُ لَيْسَت من ذَهَبِ وَلَا فِضَّةٍ وَلَكِن بِهَا رجال مُؤْمِنُونَ عَرَفُوا اللَّهَ حَقٌّ مَعْرِفَتِهِ وَهُمْ اَنصَارُ الْمَهْدِى عليه السّلامُ فِي أَخِيرِ الزَّمَانِ ، له الله عز وجل کے ہاں سونا چاندی کے علاوہ اور بھی خزانے ہیں اور وہ مومن مرد ہیں جن کو اللہ تعالے مه كتاب البریہ مثلا ( تاریخ اشاعت جنوری ۱۸۹۸ء) : " "كفاية الطالب في مناقب ه علی ابن ابی طالب ، من رمول الامام ابو عبد الله محمد بن يوسف الشافعي مقتول (۶۵۸ (هو) ناشر المطيعة الحيدريه النجف ١٣٩٠هـ / ۱۹۷۰ :