تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 379
اختر احق کرتے ہوں گے چونکہ نیا نیا ملک فتح ہوا تھا اس لئے انہوں نے اس خیال سے ہے کہ لوگ اعتراض نہ کریں کہ نمازی کے وقت بھی یہ پر رکھتے ہیں اپنے لئے پرہ مقرر نہ کیا نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن نے نماز کی حالت میں ہی کئی صفیں قتل کر دیں اور پھر کہیں جا کر اگلی صف والوں کو پتہ لگا کہ دشمن نے حملہ کر دیا ہے بیت یوں صحابیہ مارے گئے اور سینکڑوں دوسرے مسلمان شہید ہوئے پس پردہ ایک ضروری چیز ہے لیکن اس کی ایسی شکلی بنا دینا کہ پہرہ ہی رہ جائے اور کام ختم ہو جائے یہ بھی ایک لغو بات ہے۔آخر ہر ایک نے مرنا ہے، پس ایسی احتیاط جو خلافت کو بادشاہت کونگ دیدئے یا تنظیم کو غیر معمولی شان و شوکت والی چیز بنا دے، تنظیم کہلا سکتی ہے اور نہ اسلامی نقطۂ نگاہ سے یہ کوئی پسندیدہ امر ہے۔اصل حفاظت خدا تعالے کرتا ہے بندے انہیں کرتے اور یہ چیز جو آج نظر آرہی ہے یہ احتیاط سے بالا ہوگئی ہے لوگ اتنی دور بیٹھے ہوئے ہیں کہ وہ تو شاہ مجھے دیکھ رہے ہیں لیکن میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لئے مجھے شاذونادر رہی کیسی کی شکل نظر آ رہی ہے پس ان کو بھی قریب آنے کا موقعہ دینا چاہئیے۔باقی نگرانوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ کو کا ہوشیار ہی سے کام لیں۔بھلا ایسے احمقوں نے حفاظت کیا کرنی ہے جن کے سامنے ایک شخص رائفل لے کر آجاتا ہے ، ایسے اُٹھاتا ہے ، نشانہ باندھتا ہے اور فائر کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر نہ انہیں رائفل لاتے وقت و نظر آتا ہے، نہ رائفل اٹھاتے وقت نظر آتا ہے، نہ نشانہ باندھتے وقت نظر آتا ہے، مدار دگرد بیٹھنے والوں کو پتہ لگتا ہے کہ فلان شخص رائفل سہلانے لگا ہے، حالانکہ رائفل ایسی چیز ہے کہ ایک ہاتھ مارا جائے تو دور جاپڑے اور اس کا نشانہ آسمان کی طرف چلا جائے لیپس رائفل کا سوال نہیں سواتی پستول کا ہے مگر اس میں بھی تب کامیابی ہوتی ہے جب کوئی پچاس ساٹھ فٹ سے نشانہ لگائے اور ایک منٹ تو نشانہ لگاتے ہیں ہی صرف ہو جاتا ہے۔اگر پاس کے لوگ ذرا بھی ہوشیار ہوں تو وہ صرف ایک کہتی کی حرکت سے اس کے نشانہ کو ختم کر سکتے ہیں بلکہ گھتی تو الگ رہی سانس کی تیزی سے بھی نشانہ بگڑ جاتا ہے اگر کسی کو لگے کہ کوئی شخص پستول بھلانے لگا ہے اور وہ ذرا اپنی گئی اسے مارود سے تو اتنی معمولی سی بات سے ہی اس کا نشانہ خطا ہو جاتا ہے۔پس پر کھیل میں پسند نہیں کرتا۔اس کی فوراً اصلاح کی جائے جلسہ کے وقت میں تو اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی راتوں رات اس کی اصلاح ہو جانی چاہئے ورنہ کل میں تقریر کے لئے نہیں آؤں گا اور دوستوں کو خلاقیت کے لئے جو امکانات بنائے گئے ہیں ان میں ملاقات کا موقعہ دوں گا اور کھیر دوں گا کہ مجھ سے