تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 378
۳۶۹ غیر اسلامی طریق کا جلسہ گاہ بن گیا ہے اور اسے میں پسند نہیں کرتا۔اسلام نہیں بے شک احتیاط کا حکم دیتا ہے۔قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خُذُوا حذركم لیکن موجودہ جلسہ گاہ کی جو شکل ہے یہ تو ایسی ہی ہے جیسے بادشاہ اعلانوں کے لئے آتے ہیں تو لوگوں کو دور دور بیٹھا دیا جاتا ہے اتنا لمبا فاصلہ میرے نزدیک ہرگز اس حفاظت کے لئے ضروری نہیں جس حفاظت کا خدا تعالیٰ ہم سے تقاضا کرتا ہے۔پہلوؤں کے متعلق میں نے کہا تھا کہ انہیں تنگ کرو اور یہاں لوگوں کو بیٹھنے کا موقع دو۔اسی طرح سامنے والے حصہ کے متعلق یکی نے کہا تھا کہ اسے بھی تنگ کرو جیسا کہ آپ لوگوں کو یاد ہو گا گذشتہ سال بھی بعض احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں لیکن اس وقت چاروں طرف لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔اچانک حملہ حسین کی آج کل زیادہ احتیاط کی جاتی ہے پستول کا حملہ ہوتا ہے اور پستول کا حملہ ایسی چیز ہے کہ ایسے ہنگامہ میں اگر کوئی شخص فائر کرنا چاہیے اور اس کے پاس بیٹھنے والے ذرا بھی مویشیاں ہوں تو وہ اس کے حملہ کو فوراً بے کا رکر سکتے ہیں پستول کا حملہ پچاس فٹ سے زیادہ فاصلے سے نہیں ہو سکتا، الّا ما شاء اللہ لیکن ایسا تو کبھی کبھی ہوتا ہے اور سفر رائیل لوگوں کی جانیں نکالنے کے لئے ہر روز آتا ہے پس جان نکالنا کوئی ایسی غیر معمولی چیز نہیں کہ اس کے لئے غیر معمولی احتیاط کی جائے۔ایک مہینہ گاہ میں بیٹھنے والے اتنے دور دور بیٹھے ہیں کہ ان کا اس قدر دور بیٹھنا طبیعت پر سخت گراں گزرتا ہے اور زیادہ تر افسوس یہ ہے کہ باوجود میرے کہنے کے اصلاح نہیں کی گئی۔پس یک منتظمین سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک اس جلسہ گاہ کی اصلاح نہ کی گئی میں کل تقریر نہیں کروں گا۔اگلی صف آگے آنی چاہیئے اور پہلوں میں بھی لوگوں کے بیٹھنے کا انتظام ہونا چاہیئے۔اب تو ایسی شکل بنی ہوئی ہے جیسے بادشاہ اعلان کرنے کے لئے آتے ہیں تو لوگوں کو بٹھا دیا جاتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ احتیا ط ضروری چیز ہے حضرت عمرہ ایسی بے احتیاطی کی وجہ سے شہید ہوئے، حضرت عثمان نے اسی بے احتیاطی کی وجہ سے شہید ہوئے، حضرت علی اسی بے احتیاطی کی وجہ سے شہید ہوئے مصر میں ایک دفعہ مسلمان نماز پڑھ رہے تھے کہ ان پر اچانک حملہ کر دیا گیا ، شاید انہوں نے پیرہ مقرر نہیں کیا تھا جیسے آجکل کے مولوی ہمارے پہرہ پر اعتراض کرتے ہیں اسی طرح اُس زمانہ میں لوگ ه سے شہادت ۲۳ هـ (۶۶۴۴) : سے شہادت ۳۵ (۶۶۵۶) لى النساء : ۷۲ ؟ که شهادت ۴۰ هـ (۶۶۶۱) :