تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 380 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 380

مصافحہ کر لو اور پہلے بھاؤ ایسے ماحول میں تقریر کرنے کے لئے لیکن نہیں آسکتا ہماری جماعت ایک منی میں کی جماعت ہے اور دُور دُور سے لوگ جلسہ سالانہ کے لئے آتے ہیں ان کو مجرم کے طور پر بٹھا دیتا اور وجہ کے طور پر بند کر دینا ایسی چیز ہے جسے میری غیرت برداشت نہیں کرتی۔وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں اور یکن ان سے محبت کرتا ہوں پھر ہم میں اتنی دوری کیوں ہو؟ دوسری طرف پیرہ کا انتظام بہت ناقص ہے پہلے بہت سے آدمی ہوا کرتے تھے مگر اس دفعہ اتنے آدمی نظر نہیں آتے جلسہ گاہ کے متعلق میں سمجھتے ہوں کہ اگر لوگوں کے لئے سٹیج سے پندرہ بیس فٹ پر سے جگہ بنادی جائے تو الیا یہ کافی ہوگا۔ہے ایک گھر نوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھتے رہیں کہ کوئی شرعیہ آدمی تو اندر نہیں آگیا مگر بڑھی نامناسب امر ہے کہ کیسی ایک شریر کی وجہ سے سارے محبتوں کو دور بٹھا دیا جائے۔اسی طرح میں کارکنوں کو تو ہے دلاتا ہوں کہ وہ بے تحقیق رپورٹیں نہ کیا کریں درست رپورٹیں کیا کریں۔بے شک ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ سلسلہ کا روپیہ ضائع ہو مگر یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ مہمانوں کی بہتک ہو۔آپ میکن ملبسہ کا افتتاح کر رکھے جاتا ہوں اس کے بعد دوسری کارروائی شروع ہوگی اسے اس تقریر کا فوری اثر ہوا او منتظمین جلسہ نے پنڈال کو اسٹیج تک وسیلے کر دیا۔حضرت امیر المومنین نے اپنے مستقل طریق و دستور کے دوسرے دن کی پر معارت تقریر دن مطابق اس سال بھی مختلف اہم اور ضروری اور تفصیلی روشنی ڈالی مثلاً پاکستان کے بنیادی اُصولوں کے متعلق سفارشات حضرت ام المومنین کی و تعمیر دیوه فتنه ۱۹۵۲ء مسئلہ فلسطین، بیرونی ممالک میں تعمیر مساجد اور جماعت کی اقتصادی حالت ، کو بہتر بنانے کی ضرورت وغیرہ۔حضور نے بتایا کہ جماعت احمدیہ کے خلاف فتنہ گذشتہ دو سال ۱۹۵۲ء کے فتنہ کا پس نظر سے جاری تھا مگر اس سال اس نے خاص شدت اختیار کر لی تھی کیونکہ ملک کے بعض عناصر نے اپنی اپنی سیاسی اور ذاتی اغراض کے ماتحت احراریوں سے جوڑ توڑ کرنے اور انہیں ملک میں نمایاں کرنے کی کوشش کی۔احمدیت کی مخالفت اور اسی طرح سر چو ہدری محمد ظفر الله خان صاحب کی مخالفت تو محض ایک آڑ تھی ورنہ اصل مقصد در پر وہ اپنی سیاسی اغراض حاصل کرتا به روزنامه الفصل الا صلح ۳۳۷ آش م ، هلک به