تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 26
۲۴۴ محلہ میں نیز سارے بازار یعنی چھاؤنی سیالکوٹ میں بغیر امتیاز مذہب و ملت کیا ہندو کیا مسلمان ہر ایک آپ کو غربت کی نظر سے دیکھتا تھا۔یہ بالکل سچی حقیقت ہے اور ہر ایک آپ کا احترام کرتا تھا۔باوجود احمدیت کی سخت مخالفت کے آپ کے حسن اخلاق کی وجہ سے کسی مخالف کو آپ کے سامنے احمدیت کے خلاف زبان کھولنے کی جرات نہیں ہوتی تھی۔آپ کی صاف گوئی، راستبازی، نیک چلینی، اخلاص اور تقوی کا ہر ایک مداح تھا۔علاوہ چھاؤنی کے چونکہ آپ سنگر کمپنی کے منیجر تھے شہر سیالکوٹ میں بھی بہت آنا جانا رہتا تھا شہر سیالکوٹ کے اکثر و بیشتر لوگ جن سے آپ کو معاملہ پڑتا آپ کے حسن اخلاق ، آپ کے اوصاف حمیدہ کے معترف تھے اور آپ کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آتے تھے۔ہمارے ایک دوست مستری نظام الدین صاحب پسپورٹ ورکس سیالکوٹ شہر جو کاروبار کے سلسلہ میں چھاؤنی آتے رہتے تھے اور مولا بخش صاحب بوٹ فروش (جو بعد میں کینیا می ہو گئے، بھی آتے اور حافظ صاحب کی دُکان پر ضرور ٹھیک رہتی۔ایک مرتبہ حافظ جی کی نظر مستری نظام الدین صاحب کے موزوں پر پڑ گئی جو پھٹے ہوئے تھے۔آپ نے فورا ان کے پھٹے ہوئے موزے اتروا دئیے اور اپنے نئے موزے ان کو اپنائے۔۔۔۔جب حضرت سیح موعود علیہ السلام دارالامان سے مولا کام دین کے مقدر میں ملی تشریف لیجا ہے تھے تو لیکن اور محافظ جی رضی اللہ عنہ اور مستری نظام الدین تینوں آدمی وزیر آباد سٹیشن سے اُسی ٹرین میں سوار ہو کر حضور علیہ السلام کے ساتھ ہی جہلم گئے اور حضور علیہ السلام کے قیام جہلم تک وہیں رہے اور ساتھ ہی واپس ہوئے۔آہا اسٹیشنوں پر کیا کیا نو مارے دیکھے اور خاص کر جہلم سٹیشن پر پھر کچری احاطہ میں کیا بتاؤں ؟ جن کا بیان کرنا بڑا طویل ہے جس کی اس خط میں گنجائش نہیں ہے۔اکثر واقعات میری نوٹ بک میں ہیں جو ذکر حبیب کے وقت دوستوں کو ازدیاد ایمان کے لئے سُناتا ہوں۔احاطہ کچہری میں حضور سیح موعود علیہ اسلام کرسی پربیٹھے ہوتے تھے اور باقی دوست دوری پر بیٹھے جاتے اور کچھ دوست چاروں طرف گھیرا باندھ کر کھڑے رہتے حضور تقریر فرماتے۔اکثر وبیشتر لوگوں کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے جن میں حافظ صاحب رضی اللہ عنہ اور خاکسار بھی شامل تھے۔مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹ والے بھی تھے جنہوں نے قریب ہی تھوڑی دُوری پر مخالفت میں اکھاڑا لگایا ہوا تھا۔پھر حضور سیح موعود علیہ السّلام کے لیکچر سیالکوٹ میں بھی حافظ صاحب اور خاکسار شامل ے جنوری ۱۹۰۳ء کا واقعہ ہے :