تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 335
تک قابل عمل سمجھتے ہیں۔قرآن کریم کی سورہ احزاب میں صاف طور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت آتا ہے وَلكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِين قرآن مجید میں نسخ کا قائل تو شاید یہ کہ دے کہ یہ آیت منسوخ ہے مگر ہم تو قرآن مجید کے بین الدفتین کے متعلق عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو بھی اس میں ہے وہ قابل عمل ہے اور اس کا کوئی حقہ منسوخ نہیں اور خاتم النبیین تو عقائد میں سے ہے اور عقائد و واقعات کے متعلق تمام آئمہ اہلسنت کا اتفاق ہے کہ ان میں ناسخ و منسوخ کا قاعدہ جاری نہیں پیس کسی صورت میں بھی ممکن نہیں کہ ہم خاتم الیقین کے منصب کے منکر ہوں جو محض اس منصب کا منکر ہوگا اسے لکن رسول اللہ کا بھی انکار کرنا پڑے گا کیونکہ یہ دونوں منصب ایک آیت میں اکٹھے کئے گئے ہیں۔یہ وہ عقیدہ ہے جو ہم بیان کرتے ہیں اور یہ وہ عقیدہ ہے جس کو ہم دل میں یقین کرتے ہیں ہم اسی عقیدہ پر انشاء اللہ اللہ رہیں گے اسی عقیدے پر مریں گے اور اسی پر انشاء اللہ اٹھائے جائیں گے۔اگر یکن اپنے اس بیان میں جھوٹ سے یا اخفاء سئے یا تو ریہ سے کام لے رہا ہوں تو میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین کے وعدے کو میرے حق میں جاری کر دے اور اگر یں اور میری جماعت اس عقیدے کے اظہار میں سچ سے کام لے رہے ہیں تو یکی الزام لگانے والے کے لئے بددعا نہیں کرتا لیکن خدا تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ سچے اس کی زبان پر جاری کرے او پیچ اس کے دل میں قائم کرے اور اسے توفیق بخشے کہ وہ كُونُوا مَعَ الصَّدِقِین کے ارشاد پر عمل کرنے والا ہو۔اسے اہل مصر ! آپ کی تہذیب بہت پرانی ہے۔آپ کا تمدن بہت قدیم ہے جس کا کچھ حصہ تاریخی زیانہ سے بھی پہلے کا ہے۔کیں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اتنی پرانی تہذیب اور پیرا نے تمدن کی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ایک ایسی قوم پر الزام نہ لگتے ہیں جو آپ کے ملک سے سینکڑوں میل ڈور میٹھی ہے اور جو ان الزاموں کے دُور کرنے کی طاقت نہیں رکھتی جو اس کے پس پشت اس پر لگائے جاتے ہیں یکی نہیں سمجھتا کہ میرا یہ بیان بھی مصر کے کسی اخبار میں شائع ہو سکے گا یا نہیں لیکن لیکن اس یقین کے ساتھ اس بیان کو بھیجوا رہا ہوں کہ مصر کی روح انصات مقامی اور ذاتی حد بندیوں سے آزاد ہو کر ضرور اس آواز کو اپنے اہل ملک تک پہنچا دے گی جو صرف ایک تکلیف دہ الزام سے اپنی برأت کرنا چاہتی ہے مفتی صاحب کے مضمون کے ساتھ بعض اور مضامین بھی مصر کے اخبارات میں شائع ہوئے ہیں جن ہیں