تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 322
۳۱۸ میں قارئین سے امید کرتا ہوں کہ وہ مجھے کسی کی تنقیص کا مرتکب نہ تصور کریں گے کی حقیقت کے اظہار میں سنجیدہ ہوں۔اس سلسلہ میں تمام ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔جہاں تک ظفر اللہ خان کا تعلق ہے۔اس قسم کی کہی گئی باتوں سے اس کا کوئی نقصان نہیں لیکن یہ واقعہ اس امر کی ضرور یاد دلاتا ہے کہ لوگوں نے رسول عظیم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں بھی کا ہن، ساحر، صابی اور مکنون کے الفاظ استعمال کئے تھے۔وہ شخص جو استعماریت کا بڑی قوت ، بلاغت اور صدق بیانی سے مقابلہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ بھی جس کی زبان اور دل پر حتی جاری کرتا ہے وہ بھی اگر کافر قرار دیا جا سکتا ہے تو نیک لوگوں کی اکثریت ایسے کا فرین سجانے کی خواہش کرے گی۔(خالد محمد خالد) اخبار المصری نے اپنے مقالہ خصوصی (مورخہ ۲۷۔جون اخبار المصری کا مقالہ خصوصی ۱۹۵۲ء میں بعنوان ظفر الدخان لکھا - :- المصری کے قارئیں اس کالم کے علاوہ کسی دوسری جگہ مصر میں پاکستان کے سفیر کے بیان کا مطالعہ کریں گے جس میں آپ نے مصری صحافت کی عزت افزائی کی ہے اور بالخصوص روزنامہ المصری کی جس نے اپنے اور پاکستان کے دوست بھری لوگوں کے خیالات کی اشاعت اس انتہام کے نہ ہ میں کی ہے جسے مصر کے علماء عظام میں سے ایک نے عوام کی خلاف توقع مشرق کی عظیم شخصیت محمد ظفر الل تاں پر عائد کیا تھا۔اس اتہام سے قبل شاید پاکستان اس امر سے واقف نہ تھا کہ مصر پاکستان کے لئے دل کی گہرائیوں سے محبت ، خلوص اور ہمدردی کے جذبات رکھتا ہے اور عالمی اخترت کا بھی حامل ہے۔دونوں ایک جیسے مقاصد رکھتے ہیں۔عربوں میں کیا خوب یہ کہاوت ہے کہ بسا اوقات ضرر رساں اشیاء بھی مفید مطلب ہو جایا کرتی ہیں۔پاکستان کے مصری دوست ظفر اللہ خاں کے مقام کا اندازہ ہی نہیں اسکتے ہیں الاقوامی سوسائیٹیوں میں وہ قضیہ مصر کے بلند پایہ ارکان میں سے ہیں اور دنیا کی عظیم ترین ان شخصیتوں سے ایک ہیں جنہوں نے مصر کی خاطر اپنی ذات، وقت اور وطن تک کو وقف کر رکھا ہے۔استعماریت کا مقابلہ کھلم کھلا اور بڑی جرأت سے کرتے ہیں۔اس شخص کے وجود میں اور له بحواله البشری ۱۹۵۲ء ص ۱۳ ، مش ۱۲