تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 323
۳۱۹ بھی کئی خوبیاں موجود ہیں۔یہ سب باتیں اس امر کی متقاضی ہیں کہ آپ کے خلاف نہ صرف کچھ بھی نہ کہا جائے بلکہ آپ کی گرانقدر خدمات کو سراہا جائے اور ان کے بارہ میں انصاف سے کام لیا بہائے محمد ظفر اللہ خان عصر حاضر میں دولت اسلامیہ کی نہایت درجہ بلند پایہ اور رمتا شخصیتوں سے ایک ہیں بلکہ سیر فرست ان ہی کا اسم گرامی آتا ہے۔آپ ہی وہ شخص ہیں جس نے سیاست کا مطالعہ تو اچھی طرح کیا ہے لیکن نظری سیاست کے اصولوں کو پتا یا نہیں بلکہ سیاسی ثقافت کو قرآنی انداز منکر کے تابع اور ہم آہنگ کر دیا ہے۔آپ نے ایسا اسلامی نظریہ اختیار کیا ہے جو عصر حاضر کے افکار کی آراء اور اسلامی نظریات مشتمل ہے۔ظفر اللہ خان کو اقتصادیات پر وسیع نظر حاصل ہے۔آپ نے اقتصادیات کا نہ صرف مطالعہ کیا ہے بلکہ ایک بڑی قوم کا جس کے اغراض و مقاصد وسیع تر ہیں اور جو ابھی ابھی استعماری اقتصاد یا کے بھنور سے نکلی ہے بجٹ تیار کیا ہے۔اقتصادی نظام میں آپ علیم اقتصادیات پر صرف انحصار نہیں کرتے بلکہ اقتصادی ثقافت کو اسلامی تعلیم کے تحت لے آتے ہیں۔دولت اسلامیہ کی تعمیر میں آپ کا یہ نظریہ ہے کہ افراد کے فرائض اور حقوق حکومت کے حق میں کیا ہیں اور حکومت کے فرائض اور حقوق افراد کے حق میں کیا ہیں ؟ ظفراللہ خان وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے حکومت کے جھنڈے کو اٹھایا اور پاکستان کی خارجہ سیاست کو حکومت کے دو بڑے وجودوں محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کی طرف سے سپرد ہونے پر سنبھالا اور ان کے اسلامی طریق کار کو جاری رکھا۔اس طرح اس نوزائیدہ مملکت کو عمیر حاضر کی ترقی یافتہ صف میں لاکھڑا کیا۔پاکستان کی ہر دور مذکورہ بالا) بڑی شخصیتوں نے اسلام اور اسلامی تعلیمات کی اقتداء میں جو روایات قائم کی تھیں ان کو نہ صرف بر قرار رکھا بلکہ مزید چار چاند لگا دئیے۔امریکہ اور یورپ کے عالمی سیاسیات کی شہرت کے مالک ان کی قدر و منزلت محض نمائش کے طور پر نہیں کرتے بلکہ ان کی ذاتی خوبیوں کے مداح ہونے کی صورت میں نہایت قدر کی نگاہ سے ان کو دیکھتے ہیں۔انہیں یہ بھی علم ہے کہ آپ اپنی لیاقت اور قابیت کی بدولت اطراف عالم میں کیسی احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔