تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 321 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 321

فاضل مفتی صاحب کو علم ہو گا کہ ایک روز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کو فرمایا تھا کہ کیا تو یہ سورج دیکھ رہا ہے پس اسی طرح گواہی دے ورنہ رہنے دے۔اسی طرح ان کو یہ بھی علم ہوگا کہ علماء اسلام اور آئمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ مسلمان میں کے اسلام کا ایک فیصدی بھی احتمالی ہے اس پر کفر کا فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا۔پس اس شخص کے لئے جو منصب افتاء پر فائز ہو مناسب نہ تھا کہ کسی مسلمان کے خلاف کفر کا فتوئی سجاری کرتے ہیں جلد بازی سے کام لیتا اور مسلمان بھی اتنی عظمت شان کا مالک کہ صحافت اس کے وجود ہی کو ایک بڑی خبر تصور کرتی ہو۔اگر بالفرض ایسی کوئی بات تھی جو مفتی صاحب کو ظفر اللہ خاں کے اسلام سے خارج کرنے ہی پر مجبور کرتی تھی (جس کا ہمیں علم نہیں ، تب بھی انہیں اپنے فتوئی یا بیان کو بہتر اور مناسب صورت دینا چاہئیے تھی اور پاکستان سے وزیر زندیق کی معزولی کا مطالبہ نہیں کہنا چاہیئے تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ مفتی صاحب نے اپنی تعیناتی سے تعلق قوانین کا مطالعہ ہی نہیں کیا اور یہ گمان کر لیا کہ وہ مصر اور پاکستان کے مفتی ہیں اور اس طرح اپنے ہم مشرب کے معاملات میں بھی دخل اندازی کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس کے حقوق کا احترام نہیں کیا۔مفتی پاکستان اپنے ملک، اور اپنے وزیر کے متعلق یقیناً وہ کچھ جانتا ہے جس کا شیخ مخلوف (مفتی مصر) کو کوئی علم نہیں۔اس مسئلہ کے اور بھی کئی پہلو ہیں جو زیادہ خطرناک ہیں اور نتائج کے لحاظ سے سنگیں بھی۔اسلامی اصول ہے کہ جس نے کسی مسلمان کو کافر کہا وہ خود کا فر ہو گیا۔ظفر اللہ خاں جب تک ہم آنکھوں سے اُن کا کفر مشاہدہ نہ کر لیں اور اس بارہ میں ہمیں یقینی علم نہ حاصل ہو جائے ہمارے نز دیک مسلمان ہیں اور ان کا اسلام کا مل ہے۔مفتی مصر نے خود اپنے آخری بیان میں اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ظفر اللہ خان اعتدال پسند اور وقارہ کے حامل ہوں یہ امر بھی مفتی صاحب کو اس کے خلاف فتوی صادر کرنے کا حق نہیں پہنچاتا اور نہ ہی غیض و غضب اور لعنت ملامت کے نشانہ بنانے کا۔ہماری رائے ہے کہ مفتی صاحب نے ایک مسلمان کو کافر ٹھہرایا ہے اور جس کسی نے کسی مسلمان کو کا فر ٹھہرایا ہو وہ خود کا فر ہو جاتا ہے۔