تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 20 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 20

IA وَنِعْمَة وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمُ (الحجرات : ) (ترجمہ : لیکن اللہ نے تمہاری نگاہ میں ایمان کو پیارا بنایا ہے اور تمہارے دلوں میں اسکو خو بصورت کو کے دکھایا ہے اور تمہاری نگاہ میں گھر اور اطاعت سے نکل جانے اور نافرمانی کرنے کو نا پسند کر کے دکھایا ہے وہی لوگ سیدھے راستہ پر ہیں لیکن اللہ کے فضل اور نعمت سے ہے اور اللہ خوب جانتے والا حکمت والا ہے۔میاں محمد دین صاحب اپنے واقعہ صحیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :۔واقعہ بیعت " ایمان لانے کے ساتھ ہی قرآن کی عظمت اور محبت نے میرے دل میں ڈیرہ لگایا " گویا علیم شریعت جو ایمان کی چڑھ ہے اس کے حاصل کرنے کا شوق اور مت کرد انگیر ہوا۔ازاں بعد سال ۹۶ ۹۳ میں براہین احمدیہ کا ایک دور ختم کیا جو نماز تہجد کے بعد کیا کرتا تھا اور پھر آئینہ کمالات اسلام پڑھا ہو تو شیخ المرام کی تفسیر ہے۔حضرت قبلہ منشی مرزا جلال الدین صاحب پیشتر میرفتی رسالہ ۱۲ ساکن بلانی تحصیل کھاریاں ضلع گجرات دو ماہ کی رخصت لے کر سیالکوٹ چھاؤنی سے بلانی تشریف لائے اور بلانی میں ہی میں پٹواری تھا ان اسے پتہ پوچھ کر بیعت کا خط لکھ دیا جس کا جواب مجھے اکتوبر ۱۸۹۴ ء میں ملا جس میں لکھا تھا کہ ظاہری بیعت بھی ضروری ہے جوئیں نے ۵ - جون ۱۸۹۵ء مسجد مبارک کے چھت پر بالاخانہ کے دروازے کی چوکھٹ کے مشرقی بازو کے ساتھ حضرت صاحب سے کی ؟ مسجد مبارک میں ظہر کی نماز مولوی عبد الکریم صاحب کے اقتدا میں ادا کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام ان دنوں نماز ظہر اور عصر کے درمیان اور نماز مغرب اور عشاء کے درمیانی مسجد میں تشریف رکھا کرتے تھے۔جب نماز سے فارغ ہو کو حضرت صاحب شمالی دیوار کے ساتھ کھڑ کی (دریچہ ) کے جانب غرب بیٹھے تو میں نے آپ کے چہرہ مبارک کو دیکھا اور چہرہ اور پیشانی سے نور کی شعاعیں سفید رنگ کی اٹھتی دیکھیں جو بڑی لمیں تھیں اور چھت کو پھاڑ کر آسمان کی طرف جا رہی تھیں میں اس نظارہ سے مسرور اور تصویر حیرت ہو گیا ہے یکن نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ قرآن شریف کیس طرح آئے ؟ آپ نے فرمایا وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ (ترجمہ) اور تم توی کر و خدا تمہارا خود استاد ہو جائے گا۔ه البقره : ۲۸۳