تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 18
۱۶ آپ دو دفعہ حضور کی زندگی میں دارالامان تشریف لے گئے۔جب پہلی بار بیعت کر کے اپنے وطن واپس آئے تو آپ کا بائیکاٹ کر دیا گیا مگر اس مرد خدا نے اپنے حقیقی رزاق کا سہارا کافی سمجھا چھوٹے چھوٹے معصوم بچے تھے۔پورے گنبہ کے اخراجات سر پر تھے اور ذریعہ معاش بند تھا۔انہیں ایام کا ذکر کر کے قوال تھے کہ بعض رشتہ داروں نے تکالیف اور تنگی کو دیکھ کرکہا کہ اگر تم بظا ہر ہم لوگوں میں ہی رہتے اور دل میں مرزا صاحب پر اعتقاد رکھتے تو ایسے تنگ نہ ہوتے۔آپ نے جواب دیا کہ ایک منافق کی سی زندگی بسر کروں ؟ مجھے بھو کا مرنا منظور ہے لیکن مجھ سے منافقت نہیں ہو سکتی۔اگر میں ایسا کروں اور خدا مجھے اندھا کر دے تو اس وقت میرا کون رزاق بنے گا ؟ بیان فرمایا کرتے تھے کہ جب میں پہلے پہل قادریان دار الامان گیا تو ان دنوں مجھ پر گریہ زاری کی طاعات طاری تھی اور لیکن اکثر رویا کرتا تھا۔اُن دنوں میرے ہاں اولاد نرینہ نہیں تھی۔یکی دل میں یہ خواہش رکھتا تھا کہ حضور سے اس بارے میں دعا کی درخواست کروں گا لیکن انہی دنوں میں حضور نے ایک تقریر فرمائی کہ بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور بعض لوگوں کے خطہ آتے ہیں۔کوئی کہتا ہے ہمارے ہاں اولاد نہیں یا حضرت ابدعا فرمائیے ہمیں اللہ تعالیٰ اولاد دے۔کوئی اپنی مالی تنگی کے بارے میں کہتا ہے۔کوئی اور ایسی ہی خواہش پیش کرتا ہے۔گو ہم سب کے لئے دعا کرتے ہیں مگر میرے آنے کی غرض یہ ہے کہ کوئی ایمان سلامت لے جائے مجھے اپنی خواہش کا اظہار کرتے شرم محسوس ہوتی تھی خاموش رہا۔لیکن اللہ تعالی نے اس خاموشی کو نواز کر اولاد نرینہ عطا فرمائی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی کی برکت تھی لیہ - حضرت میاں محمد الدین صاحب و اصل باقی نویس بلانی ضلع گجرات درویش قادیان: ولادت ۶۱۸۷۲ - بیعت ۶۱۸۹۴- زیارت جون ۶۱۸۹۵ - وفات یکم نبوت ۳۳۰ انش یکم نومبر ۱۹۵۱ء بمقام قادیان) موضع حقیقہ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔د مارچ ۱۸۸۵ء کو ابتدائی حالات پرائمری کا امتحان کھاریاں سے اور جنوری ۱۸۶۸ء میں مڈل کا امتحان ڈنگہ سے پاس کیا۔19 جولائی ۱۸۹۰ء کو حلقہ بلانی تحصیل کھاریاں ضلع گجرات (پنجاب) میں بطور شہواری تعینات ہوئے جہاں ۱۹۰۵ء تک رہے۔بعد میں گرد اور قانونگو بن گئے۔۱۹۱۰ ء سے لے کر ۱۹۲۹ء تک تحصیل ل الفضل ۲۷ رافاء اس مہیش صلا: