تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 274
۲۷۱ ان کا قلع قمع کئے بغیر نہیں رہیں گے۔دوران تقریر میں آپ نے مزید فرمایا :- پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم احمدیوں کو اس لئے اقلیت قرار دلانا چاہتے ہیں کہ انہیں اسمبلیوں وغیرہ میں نمائندگی مل سکے۔اس میں شک نہیں کہ اب احمدیوں کا کوئی نمائندہ نہیں ہے اور ان کے حقوق متعین ہو جانے پر انہیں نمائندگی مل جائے گی اور وہ فائدے میں رہیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ اس بات میں وزن تو اُس وقت ہو کہ جب یہ مطالبہ خود احمدیوں کی طرف سے کیا جائے۔اس مسئلہ کی مذکورہ بالا پیچیدگیاں بیان کرنے کے بعد آپ نے فرمایا ایک خطرہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ احمدی لوگ سروستر میں بہت گھنے ہوئے ہیں حالانکہ ان کی وفاداری مشتبہ ہے تو پھر واقعی یہ بہت گہر ا مسئلہ ہے۔لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا انہیں اقلیت قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ان کے کم سے کم حقوق کا تعین کرنا ہو گا، کم از کم سے مراد یہ ہے کہ ان کی تعدا د سروسز میں تقرہ مد سے کم نہیں ہونی چاہئیے زیادہ ہو کوئی حرج نہیں کیونکہ حد مقر کرنے کا مقصد حقوق کا تحفظ ہوتا ہے ان کا اتلاف نہیں۔ایسی صورت میں موجود ملازمین کو ہم بیٹا نہیں سکیں گے اور آئندہ مقررہ کوٹے کے مطابق نئے آدمی لازمی طور پر ملازم ہوتے رہیں گے " رو مرزائیت نہیں فروغ مرزائیت کا خود اپنے ہاتھ سے راستہ صاف کریں گے۔ان آئینی اور قانونی مشکلات کی وجہ سے میں کہتا ہوں کہ ہمارے جذبات خواہ کتنے بھی مشتعل کیوں نہ ہوں ہمیں اپنی مرکزی قیادت کو جو ہم سے زیادہ بالغ نظر اور نصاب فراست ہے کامل غور و خوض اور تحمل بردباری سے فیصلہ کرنے کا موقعہ دینا چاہیے ہے دوران تقریر میں شہری حقوق کی حفاظت کا ذکر کرتے ہوئے آنریبل میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے فرمایا : احمدیوں کے متعلق خواہ تمہارا کچھ ہی اعتقاد کیوں نہ ہو مگر جب تک انہیں شہریت کے حقوق حاصل ہیں تمہارا فرض ہے کہ ان کے جان و مال اور عزت و آبرو کی پوری پوری حفاظت کرو لیکن آپ لوگوں سے مجھے توقع نہیں کہ آپ اس فرض کو کما حقہ ادا کر سکیں گے بچاہئیے یہ کہ اس کو نسل کا ایک ایک رکن شہید ہو جائے قبل اس کے کہ کسی احمدی کے خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرے۔اور اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو آپ لوگ حکومت کے نا اہل ہیں۔