تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 273
۲۷۰ پہلے اکثریت کا خون سوار تھا اور اب اقلیت کا فکر دامنگیر ہے۔اس ضمن میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے مزید فرمایا۔اس مسئلہ کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ہم نے اقلیت قرار دینے کا فیصلہ کر بھی دیا تو اس فیصلہ کو نافذ کرنے کا طریقہ کیا ہوگا احمدی کی آپ کیا تعریف مقرر کریں گے کسی ملک کا طور طریق اور آئین اٹھا کر دیکھ لو اس ضمن میں ایک ہی تعریف ملے گی اور وہ یہ کہ جو شخص اپنے آپ کو جس مذہب کی طرف منسوب کرتا ہے وہ اسی مذہب کا پیر و شمار ہو گا۔جو اپنے آپ کو عیسائی کہتا ہے وہ عیسائی شمار ہو گا اور جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے وہ مسلمان کہلائے گا۔اگر احمدی بھی جیسا کہ انہوں نے اعلان کیا ہے اپنے آپ کو صرف مسلمان ظاہر کرنا شروع کردیں تو آپ کیا کریں گے۔اس کا ایک حل یہ پیش کیا جا سکتا ہے کہ علماء کا بورڈ بنا دیا جائے اور ہر شخص کے لئے ضروری قرار دیا جائے کہ وہ ووٹنگ رجسٹر میں درج ہونے سے پہلے امتحان میں سے گزرے اگر علماء اسے مسلمان قرار دیں تو وہ مسلمان شمار ہو ورنہ نہیں۔بظاہر تو یہ تجویز درست معلوم ہوتی ہے لیکن اگر کل کلاں کو ایسی صورت پیدا ہو گئی کہ بعض اغراض کے ماتحت مسلمانوں ہی کو غیر مسلم قرار دیا جانے لگا تو اس کا کیا علاج ہوگا ہے اس بات کا بھی امکان ہے کہ ایک وقت میں ایک دو نہیں اٹھی چالیس فیصدی آبادی کو غیر مسلم قرار دے دیا جائے تو ان بے چاروں کا کیا حال ہو گا ؟ اس مسئلہ کے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر پنجاب مسلم لیگ نے فرمایا :- یہ بھی کہا گیا ہے کہ (نعوذ باللہ ) احمدیوں نے قیام پاکستان سے قبل مسلم لیگ کا ساتھ نہیں دیا اگر یہ صحیح ہے اور اس بنیاد پر ان کو اقلیت قرار دینا جائز ہے تو پھر ہمیں سوچنا ہو گا کہ کس کس کو اقلیت قرار دیا جائے مسلم لیگ اور قیام پاکستان کی مخالفت تو اور بڑے بڑے لوگوں نے بھی کی تھی اور پھر اس کی زدمیں اور بہت سے لوگ بھی آئیں گے۔لیکن کہنا تو نہیں چاہتا لیکن مثال کے طور پر کہنا پڑتا ہے کہ کیا اس بناء پر آپ احراریوں کو بھی اقلیت قرار دینے کے لئے تیار ہیں ؟ پر زور تالیاں) ہر حال ایسی صورت میں ہمیں یہی فیصلہ کرنا ہو گا کہ جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا ہم میں اتنی وسعت قلبی موجود ہے کہ ہم مخالفوں کو بھی اپنے میں جگہ دینے کے لئے تیار ہیں بشر طیکہ وہ کامل وفاداری کا یقین دلائیں۔ہاں ہمارے اندر رہ کر اگر کوئی سازش کرے گا اور ریشہ دوانیوں سے باز نہیں آئے گا تو پھر ہم