تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 275
۲۷۲ ہم میں سے کوئی مارا جائے یا نہ مارا جائے اس کی اتنی اہمیت نہیں لیکن پاکستان میں ایک ہندو ایک سکے یا ایک نیسائی کا مارا جانا بہت بری بات ہے۔اگر ان میں سے ناحق کوئی مانا جاتا ہے تو حیف ہے ہم ہیں اور ہمارے صاحب اقتدار ہونے پر امن کیسے قائم رہے ؟ تقریر جاری رکھتے ہوئے آپ نے مزید فرمایا :- لیکن موجودہ حالات میں امن کیسے قائم رہے گا ؟ ہمار سے مولوی صاحبان آسمانی مقصد کی خاطر یا کسی بھی غرض کے تحت غم و غصہ پھیلاتے ہیں اور امن بحال کرنے کے لئے جب پولیس مداخلت کرتی ہے یا واقعہ ہم پہلگائی جاتی ہے تو اس پر برا منایا جاتا ہے۔پچھلے دنوں مجلس احرار کے بعض بر گزیدہ کارکن تشریف لائے اور انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ ان کا مطالبہ آئینی مطالبہ ہے امن برقرار رکھنے میں تھے حکومت کے ساتھ پورا پورا تعاون کریں گے بلکہ انہوں نے کہا امن کا تحفظ ہما۔اسیا سی ہی تھیں بلکہ مذہبی فرض بھی ہے۔اس ضمن میں یکی احراریوں اور مسلم لیگیوں سے ایک بات کہوں گا اور وہ یہ ہے کہ امن و امان قائم رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے شہری حقوق کی حفاظت کی جائے لیکن وزیر آباد کے شہر میں جو کچھ ہوا ہے وہ اس لحاظ سے بہت قابل اعتراض ہے۔وہاں بعض نوجوان طلباء نے جلوس نکالا کہ ایک احمدی استاد کو بر طرف کیا جائے۔اسی شام میونسپل کمیٹی کا ایک اجلاس منعقد ہوا اور ہر آئینی پابندی کو نظر انداز کرتے ہوئے اس احمدی استاد کو برطرف کرنے کا اعلان کر دیا گیا میں احرار سے کرتا ہوں کہ اگر تحفظ امن کا وعدہ سچا ہے تو لاہور چھوڑ کر وزیر آباد جائیے اور لوگولی کو بتائیے کہ یہ مسئلہ محض عقید ے کا ہے ہم انسانیت کا خون نہ ہونے دیں گے اور اس بات کو گوارا نہ کریں گے کہ لوگوں کے شہری حقوق تلف ہوں۔مسئلہ زیر بحث کے تمام پہلوؤں پر بخوبی روشنی ڈالنے کے بعد آپ نے فرمایا جب تک غورو خوض کے ساتھ تمام پہلوؤں پر غورنہ کیا جائے ہم میچ نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے اور اگر آپ ناز کی مسائل پر صبر و تحمل سے غور کرنے کے لئے تیار نہیں تو مجھے ایسی جماعت کی صدارت قبول نہیں جو مسائل کی نزاکت کا احساس نہ کرتے ہوئے فیصلے کرتے ہیں تدبر سے کام نہ لے۔اگر آپ نے جلد بازی میں کوئی غلط فیصلہ کر دیا جو پاکستان کے مجموعی مفاد کے خلاف ہوا تو یہ پنجاب سلم لیگ پر ایک وقتہ ہو گا یا ہے لے ٹریکٹ بعنوان میاں ممتاز محمد خان دولتانہ صدر پنجاب سلم لیگ مطبوعہ ایس ڈیلیو پر لین رام نگری ہور ۲۷ جولائی ۲۶۱۹۵۲