تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 241
۲۳۸ حضرت شاہ اسمعیل شہید نے اپنی کتاب منصب امامت میں جہاں عقیق سلاطین کو ان کے اعمال یک پر زجر و توبیخ کی ہے وہاں یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ لوگ چونکہ ظاہری شعائر اسلامی مثلا خفتنہ ، عیدین پر اظہار شکریہ تجہیز وتکفین، نماز جنازہ وغیرہ کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔پس یہ دعوئی اسلام جو ظاہر اطوار پر ان کی زبانوں سے صادر ہوتا ہے انہیں کفر صریح سے محفوظ رکھتا ہے۔اگر چہ آخرت کے مواخذہ کے لئے خفیہ کفر کافی ہے لیکن ظاہری اسلام کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے ساتھ دنیوی احکام میں مسلمانوں کا سا سلوک کیا جائے اور معاملات کی حد تک انہیں بھی مسلمانوں میں ہی شمار کیا جائے۔ابو الحسن اشعری نے اپنی کتاب مقالات الاسلاميين واختلاف المصلين میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کا ذکر کیا ہے مثلاً شیعہ ، خوارج، مرحبہ معتزلہ وغیرہ پھر ان فرقوں کے اندرونی گروہوں پر بھی بحث کی ہے مثلاً شیعہ کے تین گروہ ہیں عالیہ، را فقیہ، زیدیہ، ان میں سے غالیہ کے پندرہ چھوٹے گروہ ہیں۔اشعری کے نزدیک یہ بھی مسلمان ہیں یہاں تک کہ وہ غالیہ کو خارج از اسلام قرار نہیں دیتے حالانکہ وہ اپنے ایک سردار کو ہی کا رتبہ دیتے ہیں مثلا بیا نیہ فرقہ کے لوگ ایک شخص بیان کو اور عبداللہ بن معاویہ کے پیرو اس کو اپنا خداوند اور پیغمبر مانتے ہیں لیکن چونکہ یہ سب لوگ حضرت رسول کریم کی نبوت اور قرآن مجید کا کلام الہی ہونا تسلیم کرتے ہیں اسلئے وہ خارج از اسلام قرار نہیں دئے جاتے لیے مسلمانوں کو کافر نہ بناؤ غرض جہاں تک دیکھا جائے کتاب اللہ، حدیث رسول الله ، تصانیف اہل السنت والجماعت میں تکفیر اہل قبلہ کو قطعی طور پر ناجائز قرار دیا گیا ہے اس لئے کہ دین اسلام دنیا میں توحید و رسات کا اقرار کرانے کے لئے آیا تھا۔اس لئے نہیں آیا کہ اچھے خاصے تو حید و رسالت کے اقراری انسانوں کو جو مسلمان ہیں مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور مسلمان ہی رہنا چاہتے ہیں زبر دستی اسلام کے دائرہ سے نکال کر باہر کرے۔تکفیر کا مشغلہ پاکستان میں مسلمانوں کی وحدت کے لئے سخت مہلک ہے۔اگر اس کو رائے عامہ نے اپنی توت سے فوراً دبانہ دیا تو دین مقدس اور قیمت پاکستان کو نا قابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔له ايضا " كتاب الفرق بين الفرق والا نام حضرت ابو منصور عبد القاهر بن طاهر متوقى ٢٢٩ هـ) ناشر مطبة المعارب۔11-9 #۔