تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 242 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 242

۲۳۹ کفر کی دو قسمیں ممکن ہے تکفیر کے بعض شوقین بزرگان اسلام کی بعض تحریروں سے ایسے اقوال نقل کریں جن میں بعض مسائل پر گفٹ کی مہر لگائی گئی ہے اس لئے میں یہ عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ گھر کی دو قسمیں ہیں جیسا کہ علامہ ابن النیرم اپنی کتاب نہایہ میں لکھتے ہیں :۔گھر کی دو قسمیں ہیں۔ایک گھر تو وہ ہے جس میں خود دین کا انکار ہو یعنی توحید و رسالت کا) اور دوسر اکثر یہ ہے جس میں کسی فروع کا انکار ہو۔احکام اسلامی فروع کا حکم رکھتے ہیں ان میں سے کیسی کے انکار سے کوئی شخص دین سے خاریج نہیں ہوتا یہاں تک کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپسی ہیں قتال بھی شروع کر دیں جو صر بجا دین و ملت کے مقاصد کے خلاف ہے تو خود قرآن بھی ان کو کا فرنہیں کھتا بلکہ ان کو طائفتان من المؤمنین قرار دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اگر مومنین کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو یعنی وہ آپس میں لڑنے کے بعد بھی مومن ہی رہتے ہیں کا فرنہیں ہو جاتے۔علامہ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ علامہ از بہری سے کسی نے پوچھا کہ آیا فلاں شخص فلاں قسم کی رائے ظاہر کرنے کی وجہ سے کافر ہو گیا جواب ملا کہ ایسی رائے گھر ہے۔پوچھا گیا کیا وہ مسلمان رہا ؟ آپ نے جواب دیا بعض اوقات مسلمان بھی گھر کا مرتکب ہو جاتا ہے لیے " نے حضرت علامہ امام حسین بن محمد راغب اصفہانی (متوفی ) فرماتے ہیں :۔الاسلام في الشرع على ضربين احد هما دون الايمان وهو اعتراف باللسان وبه يحقن الدماء حصل معه الاعتقاد أو لَمْ يحصل واياه قصد بقوله قالت الاعرابُ امَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا ولكن قُولُوا أَسْلَمْنَا والثاني فوق الايمان وهو ان يكون مع الاعترات واعتقادًا بالقلب ووفاء بالفعل واستسلام الله جميع ما قضى وقدرة (مفردات امام راغب ص ۲۳) یعنی اسلام دین محمدی کی رو سے دو طرح کا ہوتا ہے ایک اسلام ایمان سے نیچے ہوتا ہے اور وہ زبان سے اعتراف کرنا اور کلر پڑھنا ہے جہان کی حفاظت اتنے (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر )