تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 240
۲۳۷ ساری دنیا جانتی ہے کہ ایک کا فرجس وقت کا پڑھ کر توحید و رسالت کا اقرار کر لیتا ہے تو مسلمان ہو جاتا ہے اور تمام کلم اورغیرمسلم اس کومسلمان سمجھ لیتے ہیں۔اب جب تک وہ اس اقرار کو واپس نہ لے یعنی توحید و رسالت سے منکر نہ ہو جائے اس کو کافراور غیر مسلم کیونکر قرار دیا جاسکتا ہے۔حاکم نے اپنی کتاب منتظمی میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ سے بیان کیا ہے کہ وہ اہل قبلہ میں سے کسی کو بھی کافر نہیں کہتے اور ابوبکر رازی نے امام کرخی سے بھی یہی روایات کی ہیں۔(شرح مواقف) شرح عقائد نسفی صفحہ ۳۱ میں لکھا ہے کہ اہل السنت والجماعت کے قواعد میں سے ہے کہ اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہ کی جائے۔ابو الحسن اشعری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کے وصال کے بعد مسلمانوں میں کئی امور پر اختلاف ہوا۔وہ ایک دوسرے کو گمراہ کہنے لگے اور مختلف فرقوں میں تقسیم ہو گئے لیکن اسلام ان سب کو یکجا کر کے اپنے دائرہ میں جمع کرتا ہے۔"مقالات الاسلاميين ابوالحسن اشعری صفحہ (۲) مولانا احمد بن الصطفیٰ لکھتے ہیں کہ حنفیوں، شافعیوں، مالکیوں اور اشعریوں کے معتمد علیہ اور مستند اماموں کی رائے یہی ہے کہ اہل قبلہ میں سے کسی کو کافر نہیں کہا جا سکتا۔(مفتاح دار السعادة حصہ اول صفحہ ۴۶) فقہ حنفی کی مستند ترین کتابوں سے صاف ظاہر ہے کہ اہل السنت کو تکفیر کی ممانعت کی گئی ہے۔مثلاً ذیل کے اقتباسات ملاحظہ ہوں۔کیسی مسلمان کی تکفیر نہ کی بجائے جب تک اس کے کلام کے کوئی اچھے معنے نہ لئے بھاسکیں۔(در مختار) اگر کسی مسئلے میں ننانوے وجوہ کفر کے ہوں اور ایک احتمال نفی کفر کا، تو قاضی وسختی کا فرض ہے کہ اس احتمال کو اختیار کرے جو نفی کفر کا ہے۔(شرح فقہ اکبر ملا علی قاری صفحہ ۱۴۶) جب کسی مسئلے میں کئی وجوہ گھر کے ہوں اور ایک وجہ عدم تغیر کی ہو تومفتی پر واجب ہے کہ وہ حسین مکن کی راہ سے اسی وجہ کو اختیار کر سے جو تکفیر کی مانع ہے۔(سل الحسام البندری سید محمدعابدین صفحه (۳) ہم کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے۔اگر چہ وہ بہت سی باتوں میں باطل پر پہنی ہو کیونکہ اقرار توحید الہی و تصدیق رسالت محمدیہ اور توجہ الی القبلہ کے بعد کوئی شخص ایمان سے خارج نہیں ہوتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ لا اله الا اللہ کہتے ہیں انہیں کافر نہ کہو۔علم الکتاب میرور و خودی