تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 239 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 239

۲۳۶ اللہ کے بندے ہو تو تمہیں اللہ کا حکم ماننا ہو گا۔دوسری بات یہ ہے کہ کست مؤمنا" کے الفاظ کا مطلب یہی ہے کہ کسی مومن کو یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے جس حالت میں وہ تم کو مومنانہ سلام کہتا ہے۔غیر مسلم کا تو اس سے تعلق ہی نہیں مقصود یہ ہے کہ جو شخص مسلمان کہلاتا ہے وہ مسلمانوں کے ساتھ ظاہر اخوت کا ثبوت (یعنی سلام و کلام بھی دیتا ہے اُس کو کافر کہنا از روئے قرآن ممنوع ہے۔حدیث رسول کا حکم عن ابن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من صلى صلو واستقبل قبلتنا واكل ذبيحتنا فذالك المسلم الذى له ذمة الله وذمة رسول الله فلا تخفر وا الله في ذمته۔(بخاری کتاب الصلوة ) انس بن مالک روایت کرتے ہیں فرمایا رسول اللہ نے جو شخص ہماری طرح نماز پڑھتا ہے، ہمارہے قبلہ کی طرف منہ کرتا ہے اور ہمارا ذبیحہ کھاتا ہے تو ی شخص سلم ہے جس کے لئے اللہ کا حمد ہے اور رسول اللہ کا مہینہ ہے پس اللہ کے عمد کو نہ توڑ و حضور نے فرمایا جسے لا اله الا اللہ کہنے والوں کی تکفیر کی وہ خود کفر سے زیادہ قریب ہے۔ایسی حدیثیں متعدد ہیں جن میں حضور کے قول و عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص تو حید کا اقرار کر لیتا تھا حضور اُسے سلمان سمجھتے تھے۔اور اگر کوئی اعتراض کرتا تھا کہ فلاں شخص شاید دل سے مسلمان نہ ہوا ہو تو حضور فرماتے کہ مجھے یہ حکم نہیں ملا کہ میں لوگوں کے دلوں کو پھاڑ کر دیکھوں۔اسلام کے لئے اقرار کافی ہے۔لے آئمر اسلام اور تکفیر ہمارے آئمہ کبار نے اہل قبلہ کی تکفیر کو ہمیشہ ناواجب ٹھرایا ہے۔امام طحاوی نے کیا خوب بات کہتی ہے کہ جس اقرار کے بعد کوئی مسلمان ہوتا ہے جب تک اس اقرار سے برگشتہ نہ ہو جائے اسلام سے خارج نہیں ہو سکتا ہے (رد المحتار سوم صفحہ (۳۱) نے صحیح مسلم (کتاب الایمانی) روبی متن ہے " لا يخرج الرجل من الايمان إلا بجهود ما ادخله فيه ور ایضاً معين الحكام عش ام4