تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 238
۲۳۵ متوقعہ ہونے دیتا ہے۔کیا یہ قرآن پاک کی اسی تہدید کا بالکل عملی نمونہ ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں پیش کرتا جو بنی اسرائیل کو ہوئی تھی ؟ قَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصْرَى عَلَى شَئ وَقَالَتِ النَّصري ليست الْيَهُودُ عَلَى شَى وَهُمْ يَتْلُونَ الكتب بہ مجھے ذاتی طور سے علم ہے کہ لاہور کے دو نهایت جید دیوبندی علماء نے جن کی میرے دل میں عزت ہے بر سر مجلس ایک جماعت کو مرتد کہ کچھ اسکے واجب القتل ہونے کا فتوی دیا۔لایکا دون يفقهون حديثا لے س - مولانا عبدالمجید خان سالک نے تجویز پیش کی کہ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت تکفیر مسلمان کو قانوناً جرم قرار دے۔اُن کے الفاظ یہ تھے:۔اسلام کے بعد ایمان کا درجہ ہے اور قرآن مجید کے نزدیک ایمان یہ ہے کہ اللہ اس کے فرشتوں، پیغمبروں ، اس کی کتابوں ، حشر ونشر اور سزاو جزا کا اقرار کیا جائے۔حدیث میں اسلام کے ارکان پانچ بیان کئے ہیں، شہادت، نماز، روزہ، زکوہ ، حج۔صفت ایمان مفصل اور ارکان اسلام پر عمل کا درجہ تو بعد میں آتا ہے اولین چیز توحید و رسالت کا اقرار ہے اور جو شخص یہ اقرار کرتا ہے اُسے دنیا کی کوئی طاقت کا فرقرار نہیں دے سکتی۔بخاری میں حدیث ہے۔ابوہریرہؓ فرماتے ہیں۔ایک شخص نے حضور سے سوال کیا۔اسلام کیا ہے ؟ ارشاد ہوا اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو۔کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔نماز کو قائم کرو۔رمضان میں روزہ رکھو اور زکواۃ دو پھر جو شخص تو حید و رسالت کا اقرار کرنے کے بعد حضور کے ان احکام پر بھی عمل کرتا ہے۔اس کو کون کا فر قرار دے سکتا ہے؟ قرآن حکیم کا حکم " سورة النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَلَا تَقُولُو المَنْ الْقَى إِلَيْكُمُ السَّامَ لَسْتَ مومنا جو شخص تم کو سلام کہے اس کے متعلق یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے۔یعنی اللہ کے نزدیک اس من شخص کو کبھی کافر قرار نہیں دیا جا سکتا جو سلمانوں کو السلام علیکم کہتا ہے۔اس پر بعض شائقین کر کہا کرتے ہیں کہ اگر کوئی عیسائی یا ہندو ہم کو سلام کہے تو کیا ہم اس کو بھی سنا ان مان لیں ؟ اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ تمہارے اعتراض کا جواب ہم نہیں دے سکتے کیونکہ آیت صاحت ہے اور اللہ کا حکم ہے اگر تم ه البقره : ۱۱۶ : سه اخبار هفت روزه الاعتصام گوجرانوالہ ستمبر ۱۹۵۲ء مت