تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 236 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 236

۲۳۳ گذشتہ ہزار سال میں شخصی حکومتوں اور ملاؤں نے اسلام کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔۔۔حضرات خدا اور انبیاء اور بعثت انبیاء اور آخرت کا واسطہ دیتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ تاریخ توحید کو ہاتھ سے نہ چھوڑو۔کیا مشرکین سے الگ ہو کہ ہم مرزائیوں کا کہ نہیں کر سکتے۔کیا علماء شود کے تعاون سے کہا بغیر دین کا کام نہیں ہو سکتا ؟ کیا ختم نبوت کا مسئلا ختیم توحید کے بغیر حل نہ ہوسکتا تھا۔مرزائیوں نے ایک فئتہ قلیلہ ہوتے ہوئے اتنی مخالفت کے باوجود اپنی تبلیغ کو نہ چھوڑا۔اہل شرک و بدعت کے پیشواؤں نے یہ اعلان نہ کیا کہ آئندہ ہم عقائد مشرکیہ کی تبلیغ نہ کریں گے مگر ہمارے موقد علماء نے سوچا کہ مصلحت وقت کا تقاضا ہے کہ مسئلہ توحید کو بند کر دیا جائے کیونکہ تحریک کو نقصان پہنچتا ہے۔یکی پوچھتا ہوں اگر تحریک کے با اثر لوگ مشرک ہیں تو آپ لوگوں کو ان کی اطاعت کرنی ہو گی اور ان کی خوشامد کے لئے کتمان حق کرنا ہو گا جیسا کہ گجرات میں کیا گیا ہے تو پھر وان اطعتموهم انكم لمشرکون کے مصداق کون ہوں گے ؟ کیا مرزائیت کا دور ہمارے حضرت صاحب کی زندگی میں نہ تھا۔کیا ان کی کوئی تحریر و تقریر ملتی ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ جب تک مرزائیوں کو اقلیت قرار نہ دیا گیا ئیں گولڑے والوں یا ستال والوں کے ساتھ مل کر دینی کام کروں گا ؟ خدارا سوچیے ! اگر کل ابو الحسنات ، قمر دین سیالوی، پیر گولڑوی جن کے گھٹنوں پر تمہارے امیر شریعت نے لاہور میں سجدہ کیا یا شیعہ مجتہدین جیسے بزرگوں کے ہاتھ میں زمام حکومت آگئی اوبر قانون ان کے ہاتھ میں آگیا تو جیسے آج مرزائیوں کو اقلیت قرار دے رہے ہیں کل ہمیں اقلیت قرار دیں گے۔اگر یہ لوگ بر سر اقتدار آگئے تو حمد بن عبد الوہاب، اسمعیل شہید محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیم اجمعین تو ان کے ہاتھ نہ لگیں گے ہم ہی ہیں جو ان کی گولی کا اولین نشانہ بنیں گے۔لهذا آخری التجا کرتا ہوں کہ ہم کو ان لوگوں سے کسی بھلائی کی امید نہ رکھنی چاہئیے اور مرزائیوں سے بڑھ کر ان لوگوں کے عقائد مشرکیہ کو دلائل سے رد کرنا چاہیئے۔اگر مرزائی اِس وجہ سے کا فرین سکتے ہیں کہ انہوں نے ایک انسان میں وہ صفات اور کمالات ثابت کئے جو تقریباً ایک لاکھ چھوٹیں اہ سر مرد اگرہ گیا ہے ؟