تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 225 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 225

کوئی اپیل نہیں رکھتے اور نہ ان کے کوئی معنے ہیں۔دوئم -:- اگر آج ہم قادیانیوں کو اقلیت قرار دیدیں تو کل ان پیشہ ور تلاؤں کو یہ مطالبہ کرنے سے کون روک سکتا ہے کہ شیعوں ، وہابیوں اور آفاتعانیوں کو بھی غیر مسلم قرار دیا جائے۔اخراج کا طریق اگر چا ہی رہا تو اس کے انجام کا کون اندازہ کر سکتا ہے ہم تو اس خیال سے بھی کانپ اُٹھتے ہیں۔کیا آپ بھی ؟ سوم: تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اگر کسی مذہبی فرقہ یا معاشی گروہ یا سیاسی پارٹی کو زیر دوستی دیا دیا جائے تو وہ مرتا نہیں ہے بلکہ زمین دوز ہو کر زیادہ خطر ناک بن جاتا ہے۔اگر ہم یہ فرمن بھی کرلیں کہ قادیانی پاکستان کے لئے مفید نہیں تو ہمیں اس بات کا بھی پہلے سے اندازہ کر لینا چاہئیے کہ انہیں مسلمانوں سے نکالنے کے بعد کیا ان کا سوال اور زیادہ ہچپیدہ نہ بن جائے گا ؟ چھارو: اگر ہم تعصب سے اس طرح اقلیتیں پیدا کرتے جائیں تو کیا ہم دنیا کی نظروں میں بیوقوف اور مذہبی دیوانے نہ سمجھے جائیں گے حالانکہ جمہوری رجحانات تو یہ ہیں کہ مختلف ثقافتی واحد توں کو ملک میں یکجا کر دیا جائے اور ذات پات اور رنگ کے اختلافات مٹا دئے جائیں تا کہ ایک قوم کہلانے کے لئے لوگوں میں مشتر کہ شہریت کا شعور پیدا ہو۔آؤ ہم سوچیں کیا ہم پاکستان کا یہ نقشہ پیش کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں مذیب کو محض نمائشی رنگ دے دیا گیا ہے۔جہاں مذہبی دیوانگی کا دور دورہ ہے اور جہاں قانون محض تعصب ہے۔پنجم : اگر ہم احراری مولویوں اور ان کے پٹھوں کے کہنے پر قادیانیوں کو اقلیت قرار دیدین اور انہیں کلیدی آسامیوں سے محروم کر دیں۔پھر اگر بھارت بھی ہمارے نقش قدم پر چل کر بھارت کے مسلمانوں کو ایسی اقلیت قرار دیدے جس کے ارکان ملک میں کسی کلیدی عہدے پر نہیں لگائے جا سکتے تو ہم اس کو کس طرح محسوس کریں گے ؟ اگر ہم میں ذرا بھی دور اندیشی کا مادہ ہے اور ہم ایسی حرکت کے نتائج کا اندازہ کر سکتے ہیں تو ہمیں اپنے ملک میں حقائق کو بنظر غور دیکھنا شروع کر دینا چاہیئے۔ششم : ہمیں یاد ہوگا کہ کشمیر پر ہمارے دعوئی کی بنیاد اس دلیل پر تھی کہ ضلع گورو اسپور یلیں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔اور اگر ریڈ کلف اس علاقہ کو بدنیتی سے پاکستان سے علیحدہ نہ کر دیتا تو