تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 224 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 224

۲۲۱ اور چوہدری ظفر اللہ خان نے بھی جنیوا بجاتے ہوئے ایک بیان دیا ہے مگر افسوس ہے کہ ابھی تک کسی نے اس سانپ کے سوراخ کو بند کرنے کی پوری کوشش نہیں کی اور نہ دلیری سے اس شورش کے خطرات کو واشگاف کیا ہے۔ہمارا یہ ارادہ نہیں ہے کہ ہم مسئلہ کے مذہبی پہلو پر بحث کریں کیونکہ سب مسلمان ختم نبوت پر متفق ہیں ہمارے نز دیک جو خطرہ بڑا اہم ہے وہ یہ ہے کہ ایسی شورش پاکستان کو بطور ایک ایسی جدید قسم کی جمہوری ریاست کے سخت نقصان پہنچا سکتی ہے جو مشترک قومی ثقافت و کر داره مشترک تاریخ، مشترک رسم و رواج ، مشترک مقاصد اور مطیع نظر مشترک معیار اور آرزوؤں سے باہم پیوست ہے۔افسوس ہے کہ یہ تمام تنازعہ ایسی جذباتی فضا میں ہوا ہے کہ کوئی آدمی عقل کی بات سننے کو تیار نہیں لیکن ہم عصر جدید کے تقاضوں اور پاکستان کو پیش آمدہ حالات سے پنچھیں بند نہیں کر سکتے ہمارا روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو اگرچہ تعداد میں تھوڑے ہیں مگر ان میں آنکھیں کھول کر دیکھنے کی صلاحیت ابھی کچھ باقی ہے ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے فہمیدہ ناظرین ہمار خیالات کو تسلیم کرنے سے پہلے حالات پر گہری اور دانشمندانہ نظر ڈالیں گے۔کیا یہ مجرمانہ دیوانگی نہیں ہے کہ ہم اپنا وقت ، قوت، جوش اور تعمیری فوائد ایسے معاملات پر ضائع کریں جو قوم کے وسیلے مفادات کے مقابلہ میں نہایت حقیر اور بے وقعت ہیں۔پاکستان ایسے ملک میں جہاں ابھی ہمیں اپنا دستور مکمل کرنا ہے جہاں ابھی ہمیں زندگی اور موت کے سوالات حل کرنے ہیں۔۔۔۔جہاں مہاجرین ابھی تک تباہ حال پڑے ہیں جہاں فاقہ کش عورتیں بد اخلاقی پر مجبور ہیں۔جہاں گداگر اور معذور سینکڑوں کی تعداد میں آوارہ گردی کر رہے ہیں۔جہاں پر بیماریاں، بھوک اور جہالت مستولی ہیں کیا ہم ایسے تنازعات میں اُٹھ سکتے ہیں جو ہمارے قومی اتحاد کی جڑیں کھوکھلی کر سکتے ہیں۔اور یہ تنازعہ بھی کیا ہے۔ہمیں یہ انہیں بھولنا چاہئیے کہ قادیانیت کے یہ مخالف مولوی جو اس وقت پیش پیش ہیں اس فریق کے نمائندہ ہیں جس کے ارکان نے ماضی میں قائد اعظم اور علامہ اقبال تک کو بھی نہیں چھوڑا بلکہ مولانا ظفر علی خاں کو بھی نہیں چھوڑا جو اس تحریک کے سالہا سال تک قائد رہم سے ہیں۔بات یہ ہے کہ ان مولویوں نے جس طریقے سے کفر کے فتوے صادر کئے ہیں اس نے ان کے موقف کے نیچے سے زمین نکال دی ہے۔یہ فتو سے اس طرح بے سوچے سمجھے دئے گئے ہیں کہ وہ عام مسلمانوں کیلئے