تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 226 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 226

۲۲۳ ریاست کشمیر خود بخود پاکستان کا ایک حصہ بن جاتی۔اگر ہم قادیانیوں کو سلمانوں سے علیحدہ کر دیں تو کیا ہماری یہ دلیل بے اثر نہیں ہو جائے گی ؟ آخری سوال یہ ہے کہ چونکہ اس شورش کا مرکزی نشانہ چوہدری ظفر اللہ خان ہیں کیا ہم نے کبھی یہ سوچنے کی کوشش کی ہے کہ اگر ہم پاکستان کے وزیر خارجہ کو فی الفور وزارت سے علیحدہ کر دیں تومشرق ولی اور مغرب کے اسلامی ممالک میں اس کا کیا رد عمل ہو گا ؟ سوال یہ نہیں ہوگا کہ وہ قادیانی ہیں یا نہیں بلکہ اس بات کو پیش نظر رکھتا ہوگا کہ چوہدری ظفر اللہ خان کا غیر ممالک میں بطور ایک پاکستانی ترجمانی کے کیا مقام اور کیا مرتبہ ہے؟ چونکہ اس کے متعلق دو رائیں نہیں ہوسکتیں اس لئے اگر ہم احراری مطالبہ کو مان لیں تو اس کے بین الاقوامی نتائج کے متعلق ہم کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہنا چاہیئے۔ہم جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آؤ ہم غور کریں اور پھر غور کریں کہ اگر ہم نے پاگل بننے کا عزم بالجرم کر لیا ہے تو ہمارے پاگل پن میں بھی کچھ نہ کچھ نظم تو ہونا چاہیئے۔لے (ترجمہ) مشرقی پاکستان پریس کی نظر میں احراری تحریک کے عزائم و مقاصد کسی درجہ مشرقی پاکستان مکروہ اور ملک و ملت کے لئے تباہ کن تھے اس کا اندازہ مندرجہ ذیل مدیریت و سے بآسمانی لگ سکتا ہے :- ا روزہ نامہ ستیہ جوگ ڈھاکہ نے اپنی اشاعت مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۵۲ء میں احراری تحریک کو خالص سیاسی قرار دیتے ہوئے مندرجہ ذیل رائے کا اظہار کیا :- کراچی 19 جولائی مغربی پاکستان کے سیاسی اور سماجی میدان میں ایک اشتعال پیدا ہو کر انتہاء کو پہنچ گیا ہے۔ادھر قادیانیوں کے خلاف تحریک زوروں پر ہے اور ملتان میں فساد ہوا ہے ادھر د پاکستان کی راجدھانی کراچی میں مزدوروں اور ملازمین نے ہڑتال کر رکھی ہے۔قادیانی فرقہ کے خلاف تحریک اور اس کے نتیجہ میں جو فسادات رونما ہوئے ہیں اس کی خبر اس سے پہلے اخباروں میں چھپ چکی ہے۔اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قادیانیوں کے خلاف جو تحریک چھلائی بھا رہی ہے اس کا پس منظر سیاسی ہے۔ان دنوں یہ تحریک کچھ مدھم پڑ گئی ہے لیکن ختم نہیں ہوئی بلکہ خفیہ خفیہ اس کا پر بھار جاری ہے۔پاکستان کے سب سے پرانے روزنامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ نے ہفتہ وار اسٹار مورخہ ۲۳ را گست ۱۹۵۲ء تجواله الفضل ۲۳ اگست ۱۹۵۲ء مث۔