تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 212 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 212

٢٠٩ یہ ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کیا اس کے ذریعہ ملک کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوا ہے یا نہیں اور اس کا وجود بلک کے لئے سود مند ہے یا کہ نہیں ؟ اس میزان پر جب ہم چوہدری ظفر اللہ خان کو جانچتے ہیں تو ملک ہیں اس کے متعلق کو مختلف رائیں نہیں ہو سکتیں کہ حیثیت وزیر خارجہ کے چوہدری صاحب نے ایک عظیم الشان کام سر انجام دیا ہے اور اپنی ٹھوس خدمت کی وجہ سے ان کا شمار معمار این پاکستان کی صف اولین میں ہونے کے قابل ہے۔ہم قوم کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ جب فضیلت مآب غلام محمد کو گورنر جنرل کا عہدہ تفویض کیا گیا اور آپ کی جگہ ممالک اسلامی کی اقتصادی کانفرنس کی صدارت کا مسئلہ پیش ہوا تو ہرمسلم ملک نے بلا استثناء اس اعزاز کے لئے چوہدری ظفر اللہ خان کا نام ہی تجویز کیا۔اکیلا ہی امر اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وزیر خارجہ کے خلاف پراپیگنڈا کی جو عمارت کھڑی کی جارہی ہے اس کی حقیقت کیا ہے شاید لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ ظفر اللہ خان نے کبھی کسی عہدے کے لئے درخواست نہیں کی۔اور دو موقعوں پر جب پاکستان کی نیابت کا سوال اٹھا قائد اعظم کی نظر آپ پر ہی پڑی۔باؤنڈری کمیشن کے سامنے پاکستان کی پیروی کرنے کے موقعہ پر اور بعد از ان پاکستان کا وزیر خارجہ مقرر کرنے کے وقت دونوں مواقع پر متحدہ ہندوستان کے ایک بہت بڑے مسلم لیڈر کی معرفت آپ سے ان اہم ذمہ داریوں کو اٹھانے کی درخواست کی گئی۔یہ لیڈر جن کا نام ہم بعض مخصوص وجوہات کی وجہ سے ظاہر نہیں کر سکتے ابھی تک بھارت میں مقیم ہیں۔باؤنڈری کمیشن کے سامنے پاکستان کا کیس پیش کرنے کے معاملہ میں بھی آپ کو ہدیت سلامت بنایا جاتا ہے اور کیا جاتا ہے کہ آپ ہی گورداسپور کو پاکستان کے ہاتھ سے کھو دینے کے ذمہ دار ہیں۔ایک معمولی آدمی بھی اگر ذراسی سمجھ بوجھ سے کام لے تو سمجھ سکتا ہے کہ اگر اس الزام میں رائی برابر بھی صداقت ہوتی تو قائد اعظم آپ کو وزارت خارجہ جیسے اہم عہدہ کے لئے کسی صورت میں بھی نہ چن سکتے تھے۔یہ ایک کھلا راز ہے کہ ظفر اللہ خان نے اس عہدہ کو قبول کرنے میں بڑی پہچکچاہٹ ظاہر کی۔قائد اعظم کی پیشکش کے جواب میں آپ نے کہا کہ اگر آپ کو میری قابلیت اور دیانت و امانت پر پورا اعتماد ہے تو میں وزارت کے علاوہ کسی اور صورت میں پاکستان کی خدمت کرنے کو تیار ہوں۔اس پر قائد اعظم نے یہ تاریخی جواب دیا " آپ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے مجھ سے ایسے جذبات کا اظہار کیا ہے۔مجھے پتہ ہے کہ آپ عہدوں کے بھوکے نہیں ہیں ؟