تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 213 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 213

قائد اعظم کا یہ جواب چوہدری صاحب کی قابلیت اور راستبازی کا ایک روشن ثبوت ہے۔یہ امریکی یا دیکھنے کے قابل ہے کہ چوہدری صاحب کے مذہبی معتقدات کے باوجود قائد اعظم آپ سکے ہاتھوں پاکستان کے مفادات کو پوری طرح محفوظ سمجھتے تھے۔اس پاکستان میں جس کا تصور قائد اعظم کے ذہن میں تھا عوام کے خادموں کو ان کی قابلیت اور دیانت وامانت کے پیمانہ سے ناپنا چاہیئے نہ کہ ان کے مذہبی معتقدات کی بناء پر۔قائد اعظم کے تصور میں ایسے پاکستان کا نقشہ تھا جس میں نہ مسلمان ہو گا، نہ ہندو نہ عیسائی مذہبی اعتقاد کی بناء پر نہیں بلکہ پاکستان کے شہر میں ہونے کی بناء الحاج خواجہ ناظم الدین کو جن کے کندھوں پر قائد اعظم کا بوجھ آپڑا ہے قائد اعظم کے مقدس ترکہ پاکستان کی جیسے علماء ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں پوری حفاظت کرنی چاہئیے۔حالات کی موجودہ رفتار سے پاکستان کی نوزائیدہ مملکت میں ابتری پیدا ہونے کا سخت خطرہ ہے۔علماء جو پاکستان کو اپنے خود ساختہ مذہبی اصولوں کی بناء پر اپنی جائداد سمجھتے ہیں موجودہ ایکی نیشن کو ملک میں اپنی قیادت قائم کرنے کا ایک ذریعہ بنا رہے ہیں۔ان کا اصل مقصد طاقت حاصل کرنا ہے لیکن انتخابات کے سیدھے راستہ سے اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اب وہ مذہبی عصبیت کے چور دروازہ سے داخل ہو کر اپنی اغراض حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ مملکت نوزائیدہ پاکستان کو تباہی کے گڑھے میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔ہمیں یقین ہے کہ مرکزی کا بینہ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ وہ مضاء جو ظفر اللہ خان کو ان کے عہدے سے ہٹانے سے پیدا ہو گا اس کا پیر کرنا ناممکن ہو گا۔چند روز قبل ان کے استعفے اے قائد اعظم کا اہل امریکہ کے نام نشری پیغام (فروری ۶۱۹۴۸ ) :- "پاکستان ایک ایسی بذر سبی مملکت نہیں ہو گا جس میں مذہبی پیشوا با مور من اللہ کے طور پر حکومت کریں گے۔ہمارے ہاں بہت سے غیر مسلم ہیں۔ہند و عیسائی اور پارسی۔لیکن وہ سب پاکستانی ہیں۔وہ بھی تمام دوسرے شہریوں کی طرح یکساں حقوق اور مراعات سے بہرہ ور ہوں گے اور پاکستان کے معاملات میں کما حقہ کردار ادا کریں گے؟ دورہ پاکستان مصنفہ چوہدری محمد علی را که ناشر مکتبہ کارواں کچہری روڈ لاہور۔طبع دوم ۱۹۷۲ ۶) +