تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 211
۲۰۸ ا بجارہے ہیں۔دو ہفتہ کے اندر اندر جینیوا میں کشمیر کے متعلق آخری بات چیت جس پر پاکستان کی موت و حیات کا دارومدار ہے شروع ہو جائے گی لیکن اسلام کے ان مقدس پاسبانوں نے اسلام خطرے میں ہے" کا نعرہ لگا کہ اس شخص کی فوری برطرفی کا مطالبہ شروع کر دیا ہے جو پاکستان کی زندگی اور موت کی لڑائی لڑنے کے لئے جارہا ہے۔اگر احرار شور و غوغا کریں تو یہ بات بڑی حد تک سمجھ میں آنے والی ہو سکتی ہے کہ وہ عین اس موقعہ پر جبکہ مسئلہ کشمیر اپنے آخری مراحل میں پہنچ چکا ہے اور دوٹوک فیصلہ کا وقت آچکا ہے۔اس مسئلہ سے لوگوں کی توبہ کو ہٹا کر اپنے آقاؤں کا نمک حلال کر رہے ہیں لیکن جب بعض علماء بھی دشمن کا کردار ادا کرنے لگیں تو ان کی سمجھ کی کمی پر ماتم کناں ہونے کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے ؟ بات چیت کے اس خطر ناک مرحلہ پر ملک کو صرف ایک امر کا تہیہ کر لینا چاہیئے تھا یعنی ہر قیمت پر کشمیریوں سے انصاف کرانا لیکن جبکہ کشمیر کا معامل تیزی سے بگڑتا جارہا ہے عوام کی طرف سے جو چند روز قبل گلے پھاڑ پھاڑ کر اس جنت ارضی کی خاطر اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے کا اعلان کیا کرتے تھے اب اس کے متعلق ایک آواز بھی نہیں اُٹھتی۔کیا آپ بھی ملا کے نشہ آور نعرے اسلام خطرے میں ہے“ کا شکریہ ادانہ کیا جائے؟ قوم کو اس زیر دست غریب پر جو نہ ہب کے نام پر اسلام اور پاکستان دونوں سے کھیلا گیا ہے ہوش میں آجانا چاہیے۔اب یہ ایک کھلا ہوا راز ہے کہ جہاں تک ظفر اللہ کے خلاف اینچی نشین کے پیچھے اندرونی طاقتوں کا سوال ہے سب کچھ ذاتی اغراض اور خواہشات کو بروئے کارلانے کے لئے کیا جارہا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم پاکستان کی یک جہتی اور سلامتی کے لئے ذاتی اغراض کو پس پشت ڈال دیں ہمیں یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ اگر مذہب کا لبادہ اوڑھ کر قائد اعظم کا ایک رفیق کار بھی محض ذاتی مقاصد کے لئے پاکستان کی ایک جہتی قائم رکھنے کے اصول کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کو رہا ہے تو پھر پاکستان کا خدا ہی حافظ ہے۔ایک سے زائد بار ہم واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم قادیانیوں کی ختم نبوت کی تاویل کو قبول نہیں کرتے تاہم ایک سرکاری ملازم کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کے لئے اس کے مذہبی خیالات کو بیچ میں لانے کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں مملکت کے کسی وزیر یا افسر کو پرکھنے کی واحد کسوٹی