تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 210 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 210

۲۰۷ دونوں نے فرمایا ہے ، یہی خطرہ دریشیں ہے مسلمان عوام کو ملک و ریخت کے ان دشمنوں سے خبر دار رہنا چاہئے جو مسلمان کو مسلمان سے لڑا کر اس نوزائیدہ اسلامی مملکت کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔تبلیغ و تشہیر کے ذرائع کے علاوہ قانون کی قوت بھی حکومت کو حاصل ہے۔آخر وہ قوت جائز اؤ نیک مقصد کے لئے کیوں استعمال نہیں کی جاتی ؟ دولتانہ صاحب نے بعض سرگرمیوں کے متعلق صاف لفظوں ہمیں یہ کہا ہے کہ وہ پاکستان کے وجود کے لئے تباہ کن ہیں۔اور قیوم صاحب نے صرف یہی نہیں یہ بھی اشارہ کر دیا ہے کہ بعض نئی اور پرانی سامراجی طاقتیں پاکستان کے وجود پر سخت ناخوش ہیں اور ہر مکن ذریعہ سے اسے ختم کرنا چاہتی ہیں اور یہ خطرناک سرگرمیاں اسی نا پاک ہم کے ہتھیار ہیں۔اگر یہ بات ہے تو ارباب اقتدار کے اختیارات ملک و ملت کے ان بدترین دشمنوں کے خلاف حرکت ہیں کیوں نہیں آتے جو ایسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جو خود ارباب اقتدار کے قول کے مطابق ملک کے لئے تباہ کن ہیں؟ حیرت ہے کہ جائز سیاسی اختلاف کا اظہار کرنے پر تو زبان کٹتی ہو مگر ان عناصر کو جو ملک کو برباد کر دینے والی سرگرمیوں میں مصروف ہوں گھلی چھوٹتی ہو۔اس کی وجہ دوڑ بھی ہے یا تیم ولی اور کمزوری ؟ خدا را اب بھی آنکھیں کھولئے ورنہ جب پانی سر سے گذر گیا تو پھر جاگنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا ملک اپنی زندگی کے ابتدائی چند سالوں بعد ہی تباہی کے موڑ پر پہنچ گیا ہے اور اس کے ذمہ دار ہمیں لوگ ہیں۔یہ آگ ہم نے لگائی ہے اب اگر نیک نیتی کے ساتھ ملک کو بربادی سے بچانا مقصود ہے تو ہم سب کا صرف حکومت کا نہیں۔حکومت، لیڈروں، اخبارات، علمائے کرام، پڑھے لکھے افراد سب کا فرض ہے کہ وہ اس آگ کو بجھانے کی کوشش کریں ورنہ یاد رکھئے شیعہ ،اشتی ، وہابی کسی کا گھر محفوظ نہیں کئے جو ڈوبی یہ ناؤ تو ڈولو گے سارے“ روز نامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ، لاہور نے اینٹی گیشن سے متاثر ہو کر حسب ذیل ادار یہ لکھا۔عین اس وقت جبکہ مسئلہ کشمیر کے متعلق بات چیت انتہائی نازک مرحلہ میں داخل ہو چکی ہے ظفر اللہ کے خلاف موجودہ ایجی ٹیشن اس یقینی کیفیت کا پتہ دیتی ہے کہ جب کہ کشمیر جل رہا ہے علماء شہری