تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 209
میں جنگ ہوگی۔اور اگر یہی لیل و ہار رہے تو کچھ عرصہ بعد پاکستان میں شیعہ شستی ، وہابی ، چکڑالوی بریلوی، دیوبندی تو بہت بل بجائیں گے مگر سیدھے سادے مسلمان اور پاکستانی چراغ لے کر ڈھونڈے سے بھینی نہ مل سکیں گے۔شکر ہے کہ ارباب اقتدار میں سے دو اصحاب کو اللہ نے توفیق دی کہ وہ اس مسئلہ پر لب کشائی کریں۔میاں ممتاز دولتانہ نے پسرور میں کہا ہے کہ :۔فرقہ وارانہ نفرت پھیلانا پاکستان کے وجود کے لئے تباہ کن ثابت ہو گا۔جب بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام جاری تھا اور مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالا جارہا تھا تو کسی نے مسلمانوں کے بہتر فرقوں میں کوئی تمیز روانہ دیکھی تھی۔اس کے برعکس بھی انشائیہ ستم بنے محض اس لئے کہ وہ مسلمان تھے کیا خان عبد القیوم وزیر اعلیٰ سر بعد نے ماہرہ میں یہ کہا ہے کہ : " ماضی میں مسلمانوں کی سلطنتیں اسی وجہ سے تباہ ہوئیں کہ دوسروں نے ان سلمان سلطنتوں میں انتشار کا بیج بو دیا مسلمانان پاکستان کو ان تاریخی واقعات سے سبق حاصل کرنا چاہیئے اور اندرونی انتشار پیدا کر کے اپنی آزادی خطرے میں نہ ڈالنی چاہئیے نئی اور پرانی سامراجی طاقتیں پاکستان کے وجود سے سخت نا خوش ہیں۔وہ ہر مکن ذریعہ سے اسے ختم کرنا چاہتی ہیں بنگال میں زبان کا جھگڑا اسی قسم کا ایک بارود تھا۔اب پنجاب؟ میں اور دوسری جگہ حد درجہ کھک سے اُڑ جانے والے بارودی جھگڑے کھڑے کر دئے گئے ہیں۔خدا کا شکر ہے کہ ارباب اقتدار اس خطرے سے آگاہ ہیں جو ملک و ملت کو درویشی ہے۔پھر وہ اس کا استیصال کیوں نہیں کرتے ؟ اس معاملہ میں دوڑ فی یا نیم دلانہ پالیسی ملک و ملت کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ارباب اقتدار کا فرض ہے کہ حکومت کی مشینری کو اس خطرہ کے استیصال کے لئے استعمال کریں تبلیغ اور تشہیر کے بے شمار ذرائع حکومت کے پاس ہیں یہ ذرائع اس کام آنے چاہئیں کہ مسلمان عوام کو یہ بتایا جائے کہ ماضی میں دنیا کے ہر خطہ میں مسلمانوں کے باہمی جھگڑے نے ہی ان کی تباہی و بربادی کا باعث بنے۔اب پاکستان کو بھی (جیسا کہ قیوم صاحب اور دولتانہ منا