تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 208 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 208

۲۰۵ روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۲۳ جولائی ۱۹۵۲ء کے الیشوع میں مسلمانوں کی فرقہ وارانہ کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:۔اہم مسلمانوں کے پڑھے لکھے افراد سے یہ پوچھتے ہیں کہ آخر وہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری کو کیوں محسوس نہیں کرتے ؟ اور اپنے ان پڑھ اور سادہ لوح بھائیوں کو کیوں نہیں سمجھاتے کہ اگر مسلمانوں میں یہ باہمی مناقشت اسی طرح جاری رہی تو مسلمانوں کا یہ نیا ملک پاکستان خدانخواستہ بالکل تباہ ہو جائے گا۔کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ سپین میں مسلمانوں کی تباہی کا باعث ان کے باہمی جھگ ہے ہی تھے ؟ اور یہ ان جھگڑوں ہی کا نتیجہ ہے کہ آج سپین میں ایک مسلمان بھی نہیں ملتا حالانکہ مسلمانوں نے صدیوں اس ملک پر حکومت کی ہے۔خلافت بغداد کی بربادی بھی مسلمانوں کے ان باہمی مناقشات کے باعث ہوئی اور آپ کے اپنے زمانہ میں سلطنت عثمانیہ محض اس وجہ سے پارہ پارہ ہوئی کہ مسلمان مسلمان کا دشمن تھا سپین ، بغداد اور ترکان عثمانی کی سلطنتیں اپنے اپنے زمانہ میں دنیا کی طاقتور ترین سلطنتوں میں شمار ہوتی تھیں اور ہم عصر یورپ ان کے دبدبہ اور ہیت سے کا پتا تھا مگر آج ان عظیم الشان سلطنتوں کے صرف کھنڈر باقی رہ گئے ہیں مسلمانوں نے آپس میں لڑ بھڑ کر اپنے ہاتھوں سے ان سلطنتوں کی اینٹ سے اینٹ بجائی۔وطن عزیز پاکستان سے محبت اور عقیدت بجا ہنگر ان سلطنتوں کے مقابلہ پر پاکستان کی حیثیت ہی کیا ہے۔اس بچہ نے تو ابھی گھٹنوں پر چلنا بھی نہیں سیکھا۔اور ہم خود اپنے ہاتھوں سے اس کا گلا گھونٹنے کے درپتے ہیں۔کیا وطن سے محبت اور عقیدت کا یہ تقاضا نہیں کہ پڑھے لکھے لوگ مسلمان عوام کو اس مہیب خطرہ سے آگاہ کریں۔ابھی پاکستان میں قومیت یار بیثیت کا شعور کیر نا پید ہے ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومت ، اخبارات ، سیاسی کارکن اور پڑھے لکھے لوگ عوام میں ملکیت اور قومیت کا شعور پیدا کرتے اور ہر شخص میں یہ احساس پیدا کیا جاتا کہ وہ مسلمان اور پاکستانی ہے مگر ہماری قوم کی جھگڑوں میں الجھ گئی ہے؟ اور ان جھگڑوں کا کیا انجام ہوگا؟ جن خود غرضوں کے منہ کو لہو لگ چکا ہے۔کیا وہ اسی پر اکتفاء کریں گے ؟ جن کی دکانی مسلمان کو مسلمان سے لڑانے کی وجہ سے چلتی ہے۔کیا وہ شیعہ سنی کو ایک دوسرے سے لڑانے کے بعد یہ دکان بند کر دیں گئے ؟ ہر گز نہیں آج شیعہ سنی جھگڑ رہے کل یہی لوگ منیوں کو وہابیوں سے لڑائیں گے۔پھر اہل حدیث اور اہل قرآن