تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 204
۳۰۱ ہمیں اس امر نے ہمیشہ حیران کیا ہے کہ جس ختم نبوت کے عقیدہ سے انکار کی بناء پر علماء جماعت احمدیہ کو اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں اس کی روشنی میں یہ علماء اپنی پوزیشن پر کیوں غور نہیں کرتے ہے اگر ختم نبوت سے یہ مراد ہے کہ محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور ہمارے نزدیک یہی مراد ہے تو جماعت احمدیہ اور غیر احمدی علماء جونند ولی سیج پر ایمان رکھتے ہیں دونوں ہی ختم نبوت کے منکر ہیں مسیح ابن مریم کے نبی ہوتے ہیں کوئی شبہ نہیں۔اور اگر انکو رسول کریم کے بعد آتا ہے تونبی کریم خاتم النبیین نہیں ہو سکتے۔احمدیوں کے نزدیک مسیح ابن مریم کو نہیں آتا بلکہ ان کے مثیل کو آنا تھا جو مرزا صاحب کی ذات میں آ گیا۔ساتھ ہی ان کا یہ دعوی ہے کہ یہ مشیل بھی نبی ہے بلکہ اپنی شان میں کسیح ناصری سے بڑھ کر ہے۔اس طرح بنیا دی لحاظ سے ان دو فریقوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے صرف اتنا فرق ہے کہ ایک فریق ایک نبی کے آنے کا منتظر ہے اور دوسرے کا خیال ہے کہ نہی آچکا ہے لے ان لوگوں کو ختم نبوت اور اس کے تحفظ سے تحفظ ختم نبوت کا ادعا اور اس کی حقیقت مردان کی اعلی قاری کا زمانہ امیر شین احرار سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کے مندرجہ ذیل بیان سے بخوبی لگ سکتا ہے جو انہوں نے 4 جولائی ۱۹۵۲ء کو ملتان کے ایک معرکہ اجتماع میں دیا :- یک ممتاز صاحب دولتانہ کو اس لئے اپنا لیڈر جانتا ہوں کہ ایک تو وہ صوبہ سلم لیگ کے صدر ہیں اور دوسرے وہ صوبہ پنجاب کی حکومت کے وزیر اعلیٰ ہیں۔اگر دوستانہ صاحب کہہ دیں کہ مرنا غلام احمدقادیانی کی نبوت پر ایمان لے آؤ تو میں اس پر ایمان لے آؤں گا اور مرزا بشیر الدین محمود احمد کو خلیفہ اسیح مان لوں گا نے سے ن احمدیہ تحریک ، خطا ہے لکھا ہے، شاہ جی نے فرمایا۔۔یار لوگوں نے شریعت کو نہ ماننے کے لئے مجھے امیر شریعت بنا رکھا ہے ؟ اگر مورتات امیر ترین دانه در تنظیم فشار هو صاحب امینی ناشر مکن تعمیر حیات در جمعیت علمای اسلام چوک رنگ اصیل ایرانی سے اشتہار سید زین العابدین گیلانی سابق صدر ڈسٹرکٹ مسلم لیگ ملتان ۲۰ جولائی ۱۹۵۲ - پاکستان پیپٹی پرنٹنگ ورکسی چو کہ شہیداں سلمانی شهر به