تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 203 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 203

۲۰۰ اس اعتبار سے ۱۹۵۲ء کا فتنہ تکفیر احمدیوں کے لئے تحیر کے قدیم و جدید دوری ایک فرق کو ایران ایرانی با بیان این البته ی فرق ضرور تھا کہ تقسیم ملک سے قبل جو فتاوی کفر صادر کئے گئے اُن سے انگریزی حکومت یا ہندوؤں کو بالواسطہ یا بلا واسطہ تقویت پہنچتی تھی مگر تکفیر کے اس نئے دور رہیں اس کا مقصد ایک اسلامی مملکت کو نقصان پہنچانا تھا۔چنا نچہ ملک محمد جعفر خاں (وزیر مملکت پاکستان برائے اقلیتی امور و سیاست فرنانیان ملک محمدجعفر خاں کا بیان فرماتے ہیں :- پنجاب میں ختم نبوت کی ایجی ٹیشن میں سب سے بڑا مطالبہ یہ تھا کہ احمدیوں کو سیاسی لحاظ سے 31 ایک اقلیت کا درجہ دے دیا جائے۔اس مطالبے کی تہ میں کوئی قابل ستائش ملکی یا قومی مفاد نہ تھا۔" یہ بات تو انسانی فہم ہی سے بالا ہے کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دینے سے ختم نبوت کا کیا تعلق ہے بہر حال تحریک جو کچھ بھی چلی اور خوب چلی اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ مملکت کا وجود ہی خطرے میں پڑ گیا یه است که ا ملک صاحب موصوت نے کھلے لفظوں میں اس حقیقت کا بھی اعتراف کیا ہے کہ محمول لفظی نزاع مشاور ختم نبوت میں احمدی اور غیر احمد عامر یامی من لخلق اتنا ہے اس لئے مخالف احمدیت علماء احمدیوں کو خارج از اسلام اور غیر مسلم اقلیت قرار دئے جانے کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں :۔ے احرار کی دوڑ خی پالیسی ملاحظہ ہو کہ یہ اصحاب ان دنوں جہاں پاکستان میں احمدیوں کے اکابر بزرگوں بلکہ بانی سلسلہ پر کیچڑ اچھالنا " تحفظ ختم نبوت کا لازمی تقاضا سمجھتے تھے وہاں انہوں نے جامع مسجد دہلی میں یہ قرارداد پاس کی کہ ہندوستان کے تمام مذہبی گروہوں کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بزرگوں کی عزت کرنا سیکھیں اور سکھائیں تاکہ ہمارا ملک دنیا میں اخلاقی بلندی کے ساتھ ترقی کر سکے یا آراؤں ہو۔۲۸ مئی ۱۹۵۱ ءحت کالم ہے۔احمدیہ تحریک مولفه ملک حمد جعفرخهای صاحب صد که ناشر سندھ ساگر اکادمی لاہور چوک مینار بیرون لوہاری دروازہ لاہور۔جنوری ۱۹۵۸ء *