تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 192
۱۸۹ تھی۔پس ان دونوں باتوں کا جوڑ کیا ہے ؟ اگر تو امام ابویوست یہ کہتے کہ سجد میں گھس کے جو چاہے جرم کرنے اس کی اجازت ہے تو بے شک ان کے فتوئی کے یہ معنی لئے جاسکتے تھے مگر وہ تو بادشاہ کی تائید میں ایک فتوئی پیش کرتے ہیں اس کے خلاف فتوی پیش نہیں کرتے ہیں ان فتوئی دینے والے مفتیوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر اپنی مسجدوں میں اور ان کے جلسوں میں کھڑے ہو کر کوئی احمدی ان کے خلاف تقریر شروع کر دے تو کیا وہ اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ مسجدیں کوئی فساد نہیں ہوگا اور کوئی اس آدمی کو بارے بیٹے گا نہیں اور کیا مسجد اس کو بھی پناہ دے گی جو احرار کے خلاف مسجد میں بولے یا صرف ان احرار کو پناہ دے گی جو حکومت کے خلاف مسجد میں بولیں ؟ یہ علماء یہ بھی تو سوچیں کہ اگر مسجد ہر عمل کو پاک کر دیتی ہے تو جب پولیس مسجد کے اندریا کو غیر آئینی کارروائی کرنے والے کو کپڑے تو اس کا یہ سجد کے اندر کیا ہوا فعل کیوں دینی قرار نہ دیا جائے۔آخر یہ امتیاز کہاں سے نکالا گیا ہے کہ دوسرے لوگ مسجد میں کوئی بھی کام کریں تو وہ دینی ہو جاتا ہے لیکن اگر پولیس یا حکومت مسجد میں کوئی کام کرے تو وہ دینی نہیں ہوتا۔آخر میں میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے ایک احراری اخبار نے لکھا ہے کہ قانون شکن لوگوں کو مسجد میں گرفتار کر کے پاکستان کی حکومت نے وہ ظالمانہ فعل کیا ہے کہ انگریز کی حکومت نے بھی ایسا نہ کیا تھا۔اول تو ہوم سیکرٹری صاحب پنجاب نے اس امر کی تردید کی ہے اور بیان دیا ہے کہ حکومت نے مسجد کے اندر گرفتار گرنے سے حکام کو روکا ہوا ہے لیکن فرض کرو یہ صحیح ہو تو کیا احرار اس واقعہ کو بھول گئے ہیں جب انگریزی حکومت نے مساجد میں گھس کر خاکساروں پر حملہ کیا تھا اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے تھے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ان کا فعل اچھا تھا کیونکہ سارے واقعات میرے سامنے نہیں لیکن لکن یہ کہتا ہوں کہ اپنے پاکس سے بات گھڑ کر اس کی بنا پر انگریزی حکومت کو پاکستان کی حکومت پر ترجیح دینا کیا محض فساد کی نیت سے نہیں ؟ جماعت احمدیہ اپنے محبوب امام شنیدنا عروج احدیت کی نسبت ایک عظیم الشان پیشگوئی حضرت بالمصلح الموعود کی قیادت میں ه روزنامه الفضل لاہور ہ جولائی ۱۹۵۲ء مت۲