تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 191 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 191

^^ مسجدوں میں پکڑنے والا مسجدوں کی بے حرمتی نہیں کرتا وہ مسجدوں کی عزت کو قائم کرتا ہے اور مسجدوں میں ایسے افعال کے مرتکب لوگ اول درجہ کے بزدل ہیں کہ حکومت کے ڈر کے مارے مسجدوں کی پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور خدا اور اس کے رسول کے نام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں اور تقویٰ کے مقامات کو فساد اور گناہ کی جگہیں بنا نا چاہتے ہیں۔ان کے پاس اس کے سوا کیا زور ہے کہ وہ عوام الناس کو بھڑکا رہے ہیں لیکن عوام الناس کے مل جانے سے نہ قرآن بدل سکتا ہے نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم بدل سکتی ہے نہ محمد رسول اله صل اللہ علیہ سلم کا عمل بدل سکتا ہے مگر مجھے یقین ہے کہ گو مسلمان عوام تعلیم اسلام سے لیے ہرہ ہیں مگر ثبت اسلام ان کے دلوں میں باقی ہے اور وہ اس دھوکے میں نہ آئیں گے اور ان لوگوں سے پوچھیں گے کہ شہید گنج کی مسجد کے سوال پر تو تم کو مسجد کی مرمت کا خیال نہ آیا مگر اب مسجد کے نام سے اپنے آپ کو گرفتاری سے بچانے کی کوشش کرتے ہو آخر اس کی کیا وجہ ہے تعجب کی بات ہے کہ ایک عالم کہلانے والے صاحب نے تاریخ اسلام میں سے ایک مثال مسجد کی مرمت کی پیش کی ہے۔انہوں نے ایک عباسی تخلیفہ کا ذکر کیا ہے کہ اس نے اپنی بیوی سے خفا ہو کر حکم دیا کہ شام سے پہلے پہلے وہ بغداد سے نکل بجائے اگر وہ نہ گئی تو اسے پیزا دی جائے گی لیکن بعد میں وہ اپنے حکم سے کچھپایا اور اس نے علماء سے پو چھا کہ آپ میں کیا کروں سب علماء نے بے بسی کا اظہار کیا لیکن امام ابویوسف نے کہا کہ اس کا علاج تو آسان ہے وہ مسجد میں پھیلی جائے اس طرح وہ بچ جائے گی۔میں ان عالم سے پوچھتا ہوں کہ کیا ہر چور اور ڈاکو اور قاتل اور زانی اگر مسجد میں چلا جائے تو اس کا پکڑا جانا نا جائز ہو جائے گار کیا اگر کوئی شخص مسجد میں کھڑے ہو کر اسلام اور اس کے شعائر کو نعوذ باللہ گالیاں دینی شروع کر دے تو اس کی گرفتاری نا جائز ہو جائیگی اور چونکہ آپ لوگوں کے نزدیک جو جگہ ایک دفعہ مسجد بن جائے پھر وہ مسجد کی شرطوں سے باہر نہیں ہوتی۔اگر کوئی شخص مسجد میں کھڑے ہو کر مسجد کی عمارت ہی کو گرانے لگ جائے تو اس کو کوئی سزا نہیں مل سکتی کیونکہ وہ مسجد میں کھڑا ہے اور ایک دینی کام کر رہا ہے۔نعوذ باللہ من ذالك۔امام ابویوسف نے اگر یہ واقعہ صحیح ہے ( جو بظا ہر صحیح نہیں، تو بادشاہ کو ایک حیلہ بتایا ہے کیونکہ جب بادشاہ اپنے کئے پر پچھتایا تو بادشاہ خود اس عورت کو بچانا چاہتا تھا اس لئے مسجد میں جا کہ وہ عورت قانون شکنی کی مرتکب نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ قانون بنانے والے کی مرضی کو پورا کر رہی