تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 193
14- خارق عادت رنگ میں ترقی کرتے ہوئے اس مقام تک جا پہنچی تھی کہ اس پر سورج غروب نہیں ہو سکتا تھا لیکن اس کے باوجود تحریک احمدیت کی آخری منزل کو قریب سے قریب تر لانے اور عالمگیر اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لئے مزید ایک لمبی جد و جہد کی ضرورت تھی۔ر اس ضرورت کے پیش نظر حضور نے ۲۷- احسان ۱۳۷۳۱ ش / جون ۱۹۵۲ء کو بذریعہ خطبہ جمیعد ایک تو یہ اصولی راہنمائی فرمائی کہ جب قومیں اپنے زمانہ جوانی میں داخل ہوتی ہیں تو اُن کا ہر تغییر آن کے لئے ایک نیک نتیجہ پیدا کرتا ہے۔دوسرے یہ پیش گوئی فرمائی کہ علیہ احمدیت میں جتنی دیر لگ رہی ہے اسی نسبت سے جماعت احمدیہ کی عظمت و شوکت کا زمانہ بھی لیا ہو گا۔حضور کے اس انقلاب انگیز خطبہ کے بعض ضروری حصے درج کئے جاتے ہیں :۔سلسلہ احمدیہ اور میری عمر ایک ہی ہے جس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا ہے اور بیعت لی ہے میں اسی سال پیدا ہوا تھا۔گویا جتنی میری عمر ہے اتنی عمر سلسلہ کی ہے لیکن افراد کی عمروں اور قوم کی عمر میں فرق ہوتا ہے۔ایک فرد اگر ہے یا ۱۰ سال زندہ رہ سکتا ہے تو تو میں ۳۰۰، ہم سال تک زندہ رہ سکتی ہیں۔اگر تین سو سال بھی کسی قوم کی زندگی رکھ لی جائے تو اس کی جوانی کا زمانہ اس کے چوتھے حصہ کے قریب سے شروع ہوتا ہے۔اگر ایک انسان کی عمر ۷۲، ۷۴ سال فرض کر لی جائے تو اس کی عمر کے چوتھے حصہ سے جوانی شروع ہوتی ہے یعنی ۱۸-۱۹ سال سے انسان جوانی کی عمر میں داخل ہوتا ہے۔اس طرح اگر کسی قوم کی عمر ۳۰ سال قرار سے لی جائے تو اس کی جوانی 40 سال کی عمر سے شروع ہوگی۔تمہاری عمر تو ابھی ۶۳ سال کی ہے۔ہماری جماعت کو یا درکھنا چاہئیے کہ وہ ابھی جوان بھی نہیں ہوئی۔اس پہ ابھی وہ زمانہ ہے کہ جب انسان کچھ بھی کھا لے تو وہ اُسے ختم ہو جاتا ہے ہزاروں مخالفت میں ہوں، مصائب ہوں، ابتداء ہوں۔یہ اس کی قوت کو بڑھانے کا موجب ہونے چاہئیں کمزوری کا موجب نہیں۔اگر تم اس چیز کو سمجھ لو و یقینا تمہارے حالات اچھے ہو جائیں گے جولوگ جسمانی بناوٹ کے ماہر ہیں ان کا خیال ہے کہ انسانی جسم اس یقین کے ساتھ بڑھتا ہے کہ اس کی طاقت بڑھ رہی ہے طاقت کا مشہور ماہر سینڈو گزرا ہے اس نے طاقت کے کئی کرتب دکھائے ہیں اور کئی بادشاہوں کے پاس جا کہ اس نے اپنی طاقت کے مظاہرے کیئے ہیں۔اس نے ایک رسالہ لکھا ہے کہ مجھے ورزش کا کہاں سے خیال پیدا ہوا اور میرا جسم کیے سے مضبوط ہوا۔وہ لکھتا ہے کہ تجھے J