تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 190 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 190

የ ረ رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالامسجد میں فتنہ کر نے والے لوگوں پر گرفت کی اور ان کی مجد کو توڑ دیا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسجد کے اندر گرفتاریاں کرتی مداخلت فی الدین ہے اور اسی سے متاثر ہو کر حکومت پنجاب کے ہوم سیکرٹری نے ایک اعلان بھی کیا ہے کہ ہم نے تو ہدایت دی ہوئی ہے کہ مسجد کے اندر کسی کو گرفتار نہ کیا جائے لیکن احرار اور ان کے ساتھی علماء کا یہ دعویٰ بھی بالکل غلط اور خلاف اسلام ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا فعل ان کے اس دعوی کے خلاف ہے۔تمام کی تمام مساجد خانہ کعبہ اور سید نیوئی کے نمونہ پر بنائی گئی ہیں یعنی تمام مساعد ان کے اخلال ہیں۔چونکہ ہر شخص خانہ کعبہ میں نہیں جا سکتا اور ہر شخص مسجد نبوی میں نہیں جا سکتا اس لئے اجازت دی گئی ہے کہ ان کی نقل میں ہر جگہ پر مسجدیں بنائی جائیں۔پس کسی مسجد کو وہ فضیلت حاصل نہیں ہو سکتی جو خانہ کعبہ کو یا سجد یبوٹی کو حاصل ہے اور کسی مسجد کو وہ حفاظت حاصل نہیں ہو سکتی جو خانہ کعبہ یا مسجد نبوی کو حاصل ہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقعہ پر گیارہ افراد کے نام لے کر فرمایا کہ کعبہ بھی ان لوگوں کو پناہ نہیں دے گا اگر یہ کعبہ میں بھی پائے جائیں تو وہاں بھی انکھ قتل کر دیا جائے۔بلکہ آپ نے یہاں تک فرمایا کہ اگر تم ان لوگوں کو خانہ کعبہ کے پردوں سے بھی لٹکا ہوا پاؤ تو وہاں بھی ان کو نہ چھوڑو۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ ص ) اب پر علماء کہلانے والے لوگ مجھے بتائیں کہ کیا یہ سجدیں جن میں وہ سازشیں کرتے ہیں اور حکومت کے احکام کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں یہ خانہ کعبہ سے زیادہ معزہ ہیں ؟ اگر بعض مجرموں کو رسول کی ا سلئے علیہ وسلم خانہ کعبہ میں بھی قتل کر دینے یا پکڑ لینے کاحکم دیتے ہیں تو دوسری مسجدوں کی خاطر کعبہ کے مقابلہ میں کیا حیثیت ہے کہ ان میں خلاف آئین کام کرنے والے لوگوں کو قانون سے آزادی ملنی چاہیئے۔قرآن کریم تو صاف فرماتا ہے کہ مساجد تقویٰ کے قیام کے لئے قائم کی گئی ہیں نہ کہ قانون شکنی کے لئے۔اگر مسجدیں قانون شکنی کے لئے ہیں تو پھر شیطان کے لئے تو کوئی گھر بھی بند نہیں رہتا۔جن گھروں کو خدا تعالے نے امن کے لئے تسکین کے لئے ، روحانیت کے لئے، تقویٰی کے لئے ، تعاون کے لئے ، اتحاد کے لئے بنایا تھا ان گھروں کو مسلمانوں میں فتنہ ڈالنے کا ذریعہ بنانا ، ان گھروں کو حکومت سے بغاوت کا ذریعہ بنانا ، ان گھروں کو فتنہ و فسادکی بنیاد رکھنے کی جگہ بتانا تو ایک خطرناک ظلم ہے۔ان افعال کے مرتکب کو مؤلفہ حضرت علامہ علی بن برہان الدین الی الشافعی