تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 189
JAY بنیاد اللہ تعالی کے تقوی پر رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی پر رکھتے ہیں وہ اچھے ہیں یا وہ لوگ جو مسجد کی بنیاد ایک ایسی کھو کھلی زمین کے کنارے پر رکھتے ہیں جو کہ گرنے والی ہے اور جو ان لوگوں کو دوزخ کی آگ میں گرا کر پھینک دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ ظلم اور فساد کرنے والے لوگوں کو کبھی پسند نہیں فرماتا۔جو لوگ اس قسم کی مسجدوں کی بنیادیں رکھتے ہیں یعنی جن میں مرد اور فتنہ کی کارروائیاں ہوتی ہیں، ان کی یہ تعمیر ہمیشہ ان کے دلوں میں شک و شبہات ہی پیدا کرتی رہے گی اور اللہ تعالیٰ بہت جاننے والا اور بہت حکمت والا ہے۔ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ مسجد اپنی ذات میں کسی شخص کو نہیں بچا سکتی۔اگر مسجد میں کوئی برا کام کیا جائے گا تو اس کو برا سمجھا جائے گا اور اگر مسجد میں کوئی اچھا کام کیا جائے گا تو اس کو اچھا سمجھا جائے گا۔اگر مسجد اپنی ذات میں ہر ایک فعل کو بچالیتی ہے اور مسجد میں کیا جانے والا فعل مذہبی کہلاتا ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ وہ منافق لوگ جن کا مذکورہ بالا آیات میں ذکر ہے اور جو سجد ہیں اسلامی سیاست کے خلاف منصوبے کرتے تھے وہ بھی مسجد میں مجالس کرنے کی وجہ سے دینی افعال کرتے تھے اور ہر قسم کی گرفت سے بالا تھے بلکہ حکومت اگر ان کو پکڑتی تو وہ مداخلت فی الدین کی مرتکب ہو بھاتی تھی اور اس صورت میں نعوذ باللہ من ذالك رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام آئے گا کہ آپ نے جو مذکورہ مسجد کو گرا دیا اور اس کی جگہ کھاد کا ڈھیر لگوا دیا یہ فعل نعوذ باللہ نا جائز کیا۔پس تعجب ہے اگی لوگوں پر جو علمائے اسلام کہلاتے ہیں اور مسجد کے نام سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور پلک کو دھوکہ دیتے ہیں۔اگر فعل کی نوعیت کو دیکھے بغیر صرف مسجد کے نام سے کوئی فعل مذہبی ہو جاتا ہے تو پھر یہ لوگ جنہوں نے قرآن کریم کی اس مذکورہ بالامسجد میں انجمنیں اور میلے کرنے شروع کئے تھے انہیں کیوں حق بجانب نہ سمجھا جائے مگر کیا کوئی مسلمان کہلانے والا ایسا خیال بھوا کر سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درست فصل کرنے والے کو سزادی اختیار اور انکے ساتھی یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے جو فعل مسجد میں کیا وہ قانونی تھا مسجد کے باہر بھی اگر وہ فصل ہم کرتے تو اس پر گرفت کرنی ناجائز تھی لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہر فعل جو مسجد میں کیا جائے وہ مذہبی ہوتا ہے اور اگر ہر فعل جو مسجد میں کیا جاتا ہے وہ مذہبی نہیں ہوتا۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ دنیوی ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ خلاف قانون ہو تو سجد کے اندر کئے گئے ایسے فعل پر گرفت بھی جائزہ ہوگی جیسا کہ